ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے نکلتے ہی شرجیل میمن کے کمرے سے غائب کی گئی شراب کی بوتلیں مل گئیں،شہد اور تیل برآمدگی کا توڈرامہ رچایا گیا تھا،کراچی پولیس نے بھانڈاپھوڑ دیا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 4  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی)شرجیل انعام میمن کے ملازمین سے اصلی شراب برآمد ہوئی، حقائق بدلنے پر جیل افسران اور کورٹ پولیس کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں شامل تفتیش کرلیا گیا ۔محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار پیپلز پارٹی رہنما شرجیل انعام میمن کے اسپتال کے کمرے سے شہد اور زیتون کا تیل برآمد ہونے کے پارٹی پروپیگنڈے کو کراچی پولیس حکام نے مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی شراب کی اصلی بوتلیں برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔

جبکہ حقائق مسخ اور ردوبدل کرنے کے الزام میں جیل حکام، کورٹ پولیس اور بعض دیگر متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج کر کے شامل تفتیش کیا جا رہا ہے۔میڈیا رپورٹس میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کے حوالے سے بتایا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے چھاپے کے دوران شرجیل میمن کے کمرے میں غیر ملکی شراب کی بوتلیں پائی گئی تھیں، چیف جسٹس کے کمرے سے نکلتے ہی ان بوتلوں کو غائب کردیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر جب سپریم کورٹ کی ٹیم ضیا الدین اسپتال کی سب جیل پہنچی تو پولیس کے دباؤ پر شرجیل انعام میمن کے ملازمین نے ہوبہو ویسی ہی شراب کی خالی بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل ڈال کر پیش کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پیش کردہ بوتلوں کی تصاویر بھی سوشل و الیکٹرونک میڈیا پر وائرل کردیں۔پولیس کے اعلی تحقیقاتی افسر کے مطابق تحقیقات کے دوران اسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لی گئی تو ان ویڈیوز کی مدد سے شرجیل انعام میمن کے ایک ملازم کو سب جیل کے کمرے سے شاپنگ بیگ میں شراب کی بوتلیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ مذکورہ ملازم نے وہ بوتلیں اسپتال کے جس مقام میں چھپائی تھیں پولیس نے وہاں کار پر چھاپہ مار کر اصلی شراب بھی قبضے میں لے لی تھی۔بوٹ بیسن تھانے میں درج مقدمے اور کیس پراپرٹی میں شراب کی وہ اصلی بوتلیں موجود ہیں جن میں سے دو ڈبہ پیک ہیں۔ مقدمے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اسپتال کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کیس کا حصہ بنائی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اس مقدمے کے حوالے سے جیل انتظامیہ کا پیشہ ورانہ کردار مشکوک اور غیر قانونی پایا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے موازنے سے جاگیر ہسپتال کا کمرہ قطعی طور پر تبدیل نہیں لگ رہا۔ جہاں مختلف اشیا خاص طور پر شراب لانے لے جانے کے معاملے میں چیکنگ قطعی طور پر نہیں کی گئی۔جیل حکام کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں شواہد مٹانے کی دفعہ بیان کی جا رہی ہے۔ دفعہ 201 کے تحت جیل کے متعلقہ افسران اہلکاروں، کوٹ پولیس اور بعض دیگر ذاتی ملازمین کو بھی شامل تفتیش کیا جارہا ہے۔ شرجیل میمن کے ملازمین کی جانب سے پیش کردہ بوتلوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کار کی ڈگی سے برآمد کی گئی اصلی شراب کا کیمیکل ایگزامنر سے بھی تجزیہ یہ کرایا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…