ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

میری دعوت مت کریں بلکہ اس کے پیسے یہاں جمع کرائیں ،چیف جسٹس نے وکلا کوایسا مشورہ دیدیا کہ آپ دنگ رہ جائینگے

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(یواین پی )چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور سپریم کورٹ کے نائب صدر فرید دایو کی ملاقات کے دوران بجلی جانے پر چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دورے پر اس معاملے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائیگا۔اتوار کوچیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے سپریم کورٹ کے نائب صدر فرید دایونے ملاقات کی جس دوران اچانک بجلی چلے گئی۔

جس پر سپریم کورٹ کے نائب صدر فرید دایو نے کہا کہ اندرون سندھ میں 18سے 20 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جبکہ شکار پور سمیت کئی علاقوں میں واپڈا افسران ٹرانسفارمر بدلنے کیلئے رشوت لیتے ہیں۔جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئندہ دورے پر اس معاملے کا بھی جائزہ لیا جائیگا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے وکلا کو کھانے کے پیسے فنڈز میں جمع کروانے کی ہدایت کر دی.چیف جسٹس نے وکلا سے کہا کہ میں آپ کیساتھ چائے اور بسکٹ کھا لوں گا۔آپ کھانے کے پیسے ڈیموں کے لیے بنائے گئے فنڈز میں جمع کروا دیں۔ان کا کہنا تھا کہ میری دعوت کے بجائے کھانے کے پیسے ڈیم فنڈز میں دیدیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہری پر تشدد کرنیوالے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی عمران شاہ کو 15 دن کے اندر سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ میں 30 لاکھ روپے بطور جرمانہ جمع کروانے کا حکم دیا تھا.چیف جسٹس نے ڈاکٹر عمران علی شاہ کو حکم دیا کہ 15 روز میں 30 لاکھ روپے سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں۔اس کے علاوہ ایک کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں عدالت میں طلب کیا تھا .تا ہم عامر لیاقت عدالت میں پیش نہ ہوئے۔جس کے بعد عدالت نے عامر لیاقت حسین کو عدم حاضری پر 20 ہزار جرمانہ جرمانہ عائد کر دیا۔عدالت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ عامر لیاقت جرمانہ کی رقم ڈیموں کی تعمیر کے لیے بنائے گئے اکاونٹ میں جمع کروائیں۔اور اب چیف جسٹس نے کراچی میں وکلا کو بھی یہ ہدایت کی کہ وہ مجھے دعوت کھلانے کی بجائے کھانے کے پیسے فنڈ میں جمع کروا دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…