ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

بس بہت ہو چکا۔۔۔صبر کا پیمانہ لبریز! پاکستان کا وہ علاقہ جہاں دہشتگردوں کیخلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ کرلیا گیا

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد،گلگت(مانیٹرنگ ڈیسک،سی پی پی)ایک درجن سے زائد سکول نذرآتش کر دیئے جانے کے بعد گلگت بلتستان میں بھی فوجی آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق  گلگت بلتستان کے اضلاع تانگر اور ڈیریل میں پرتشدد صورتحال درپیش ہے۔ سکول بھی انہیں اضلاع میں نذرآتش کیے گئے۔ ادھرمقامی انتظامیہ بھی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہو چکی ہے جس پر فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

دریں اثنا گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں 3 اگست کی رات کو جلائے کے 14 سکولوں کی مرمت کا کام تیزی سے شروع کردیا گیا ہے ، ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس میں ایک سکول کی مرمت کا کام مکمل کر لیا گیا اس حوالے سے حکومتی ترجمان فیض اللہ نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ سکولوں کے ہیڈ ماسٹر ز اور محکمہ تعلیم ڈائریکٹریٹ کے تمام افسران نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔انہوں نے بتایا کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم میں رغبت بڑھانے کیلئے صوبائی حکومت نے فیسوں میں پچاس فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ اعلان وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کریں گے۔واضح رہے کہ بحال کیے جانے والے اسکول کا افتتاح 8 اگست کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کریں گے جبکہ اس موقع پر فورس کمانڈر ناردرن ایریاز ثاقب محمود، کمشنرز، صوبائی حکومت کے عہدیداران اور مقامی عمائدین بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ دیگر اسکولوں کی مرمت کا کام بھی تیزی سے جاری ہیاور موسم گرما کی تعطیلات کے اختتام پر یکم ستمبر سے اسکولوں میں باقاعدہ تدریسی عمل کا آغاز کردیا جائے گا۔گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں اسکول جلانے کے واقع پر صوبائی حکومت نے تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی۔

اس ضمن میں ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللہ فراق نے بتایا کہ مذکورہ جے آئی ٹی دیامر رینج کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کی سربراہی میں بنائی گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ داریل و تانگیر میں پولیس ٹارگٹٹد آپریشن کر رہی ہے انہوں نے تفتیشی معاملات میں تعاون کرنے پر عوام اور علمائے کرام کا شکریہ بھی ادا کیا۔دریں اثناء کمانڈر10کور لیفٹیننٹ جنرل ندیم رضا نے فورس کمانڈر ناردرن ایریا ز میجرجنرل ثاقب محمود ملک، آئی جی گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان کے ہمراہ دیامر کا دورہ کیا۔

انہوں نے متاثرہ سکولوں کا بھی دورہ کیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں کو آگ لگا کر دہشت پھیلانے کی بزدلانہ کوشش قابلِ افسوس ہے اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ شرپسند عناصر ایسے ہتھکنڈوں سے ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اہل علاقہ اور جرگے کے افراد شرپسند عناصر کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں تا کہ دشمن کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قلع قمع کیا جاسکے۔ بعد ازاں انہوں نے شہید عارف حسین کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ عارف حسین کی شہادت پرہمیں فخر ہے جس نے اپنی جان اس دھرتی ماں کی حفاظت کی خاطر قربان کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…