ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ایمنسٹی سکیم کے تحت صرف 1.8ارب ڈالرز ظاہر، 100ارب ڈالرزتو صرف برطانیہ اور امریکہ میں، 200ارب ڈالر سوئٹزر لینڈ میں زیر گردش ،پاکستانیوں کے خفیہ غیر ملکی اثاثوں کی مالیت کتنے سو ارب ڈالرز نکلی؟، حکام کے حیران کن انکشافات

datetime 8  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانیوں کے خفیہ غیرملکی اثاثوں کی مالیت 350 ارب ڈالرز (43 کھرب روپے) ہے۔قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں کے بیرون ممالک غیرقانونی کھاتوں اور اثاثوں کی تحقیقات کرنے والے حکام نے حیران کن انکشافات کئے ہیں۔ ان کے مطابق ایمنسٹی اسکیم 2018ء کے تحت تین ماہ میں 5363 افراد نے 1003 ارب روپے (8.1 ارب ڈالرز)

مالیت کے اکائونٹس ظاہر کر دیئے ہیں۔ یہ اسکیم 31 جولائی 2018ء کو بند ہوئی جبکہ برطانیہ نے پاکستان کو منی لانڈرنگ کا ذریعہ بننے والے تین صف اوّل کے ممالک میں شامل کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع خفیہ تفصیلات کے مطابق ظاہر کردہ زیادہ تر اثاثے متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ ظاہر کردہ 8.1 ارب ڈالرز مجموعی 350 ارب ڈالرز کا 2.3 فیصد ہے۔ دبئی میں اثاثوں کا مجموعی حجم 4240 ارب روپے ہے جس میں سالانہ سرمایہ کاری اور شرح نمو 200ارب روپے ہے۔ ٹیکس ہیونز کے بارے میں متعلقہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانیوں کے 100 ارب ڈالرز برطانیہ اور امریکا جبکہ 200 ارب ڈالرز سوئٹزرلینڈ میں زیرگردش ہیں۔ بیرون ممالک پاکستانیوں کے چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تمام اداروں کو میوچوئل لیگل اسسٹنس (ایم ایل اے) پر عملدرآمد کے حوالے سے چیلنجز، مشکلات اور قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے۔ پاکستانیوں کے بیرون ممالک غیرقانونی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی کے خزانہ، خارجہ امور، داخلہ وزارتوں کے نمائندوں، ایف بی آر، نیب، ایف آئی اے، آئی بی اور ایس ای سی پی کے حکام کے ساتھ 7 اجلاس ہوئے۔ جن میں غیرملکی زرمبادلہ کے اخراج کو روکنے اور غیراعلانیہ اثاثے واپس لانے کے لئے اقدامات پر غور کیا گیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل نیب نے پاکستانیوں کی دبئی اور برطانیہ مٰیں جائیدادوں کو افشا کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایف بی آر نے بیرون ملک جائیدادیں رکھنے اور ایمنسٹی سکیم کے تحت کالے دھن کو سفید نہ کروانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو نوٹسز بھی جاری کر دئیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…