منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پنجاب میں حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں رسہ کشی جاری ،18 آزاد اراکین اسمبلی اہم سیاسی جماعت میں شمولیت پر رضامند ،وزارت اعلیٰ کے 5مضبوط نام سامنے آگئے

datetime 27  جولائی  2018 |

لاہور( این این آئی )پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے، نمبر گیم میں برتری کیلئے آزاد امیدوار وں سے رابطے کر لئے گئے ،جبکہ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ کامیاب ہونے والے 18 آزاد اراکین آج ( ہفتہ ) کے روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کریں گے،وزارت اعلیٰ کی دوڑ کے لئے بھی مختلف نام سامنے آ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں نشستوں کی تعداد میں کم فرق ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی میں رسہ کشی جاری ہے تاہم آزاد امیدواروں کی جانب سے فیصلے کے بعد آج یا کل ( ہفتہ یا اتوار) واضح تصویر سامنے آ نے کا قوی امکان ہے ۔ ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے بھی آزاد امیدواروں سے رابطے ہوئے ہیں ۔دوسری طرف پی ٹی آئی اور (ن) لیگ دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنما آزاد امیدواروں سے رابطے میں ہیں اور ان کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سر توڑ کوششیں کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت بنانے کے لیے 130 ارکان ہمارے پاس موجود ہیں ، حکومت تحریک انصاف ہی بنائے گی۔صوبائی اسمبلی سے کامیاب ہونے والے 18 آزاد اراکین آج ہفتہ کے روز عمران خان سے ملاقات کریں گے ۔دوسری طرف تحریک انصاف کی حکومت بننے کی صورت میں وزارت اعلیٰ کے لئے مختلف نام زیر گردش ہیں جن میں عبد العلیم خان ،میاں محمود الرشید اور فواد چوہدری کے نام شامل ہیں جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ چوہدری سرور بھی اس کے لئے اپنی سینیٹر شپ چھوڑنے کے لئے تیار ہیں ۔ سیاسی حلقوں میں چوہدری پرویز الٰہی کے نام کو بھی زیر غور لائے جانے کے امکانات پر گفتگو کی جارہی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں حکومت بننے کی صورت میں حمزہ شہباز کو وزارت اعلی کیلئے میدان میں اتارنے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اگر (ن) لیگ پنجاب میں حکومت بنانے میں ناکام رہی تو سعد رفیق کو قائد حزب اختلاف بنایا جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…