ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ کے بعد بالاخر بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی کافیصلہ بھی سنادیا،جمہوری عمل کو جاری رکھنے کا اعلان،حلف نہ اُٹھانے کی تجویز مسترد، حکمت عملی سامنے آگئی‎

datetime 27  جولائی  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے، بلاول بھٹو نے اپنی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سارے انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہیں، شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور مستعفی ہو جائیں،

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن صاف اور شفاف الیکشن کرانے میں ناکام ہوا ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر استعفی دے دیں۔الیکشن کمیشن اپنا آئینی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی الیکشن 2018ء کو مسترد کرتی ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 2013ء کے الیکشن کے مقابلے میں 2018ء میں بہتر پرفارم کیا ہے لیکن پھر بھی ہم ان الیکشن نتائج کو مسترد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہویت پسند ہے، ہم نے اپنی سیاسی پارٹی کی رائے جاننی تھی، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان الیکشن کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ باقی سیاسی جماعتوں کے اعتراضات کو بھی سننا چاہیے، انہوں نے کہاکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے بھی الیکشن پر سخت تحفظات ہیں، پیپلز پارٹی اپنے اجلاس کی وجہ سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کر سکی۔پارلیمانی سیاست میں اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ ہم ڈٹ کر اپوزیشن کریں گے۔ پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوری عمل کونہ چھیڑیں اور پی ٹی آئی کو حکومت بنانے دیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا ہے، بلاول بھٹو نے اپنی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سارے انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہیں، شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور مستعفی ہو جائیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…