ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اڈیالہ جیل میں قید مریم نواز کے ٹوئیٹ کا معمہ،کس بااثر قیدی کا وائی فائی اور موبائل استعمال ہوا؟یہ قیدی کون ہے اور کس کے قتل کے الزام میں جیل میں قید ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 24  جولائی  2018 |

راولپنڈی(آن لائن)اڈیالہ جیل میں قید مریم نواز کے ٹوئیٹ کا معمہ حل ہو گیا۔بااثر قیدی راجہ ارشد کا وائی فائی اور موبائل استعمال کیا گیا،راجہ ارشد سابق چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو کے بھانجے برسٹر فہد کے قتل میں ملوث ہونے پر جیل میں ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق جیل ذرائع نے بتایا ہے کہ ملزم کے پاس پانچ سمیں ہیں۔جن میں امریکہ ،برطانیہ کی سمز بھی شال ہیں۔اڈیالہ جیل راولپنڈی میں 13جولائی سے میاں نواز شریف اور مریم نواز احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا بھگت رہے ہیں اور مریم نواز نے 21جولائی کو جیل سے سے پہلا ٹوئیٹ کیا جس میں انہوں نے فیض احمد فیض کی نظم لکھی تھی ’’جس دھج سے کوئی مقتل گیا ،وہ شان سلامت رہی ہے ۔’’یہ جان تو آنی جانی ہے ،اس جان کی کوئی بات نہیں ،گربازی عشق کی بازی جو چاہو لگا دو ڈر کیسا،گرجیت گئے تو کیا کہا ،ہار بھی گئے تو بازی مات نہیں ‘۔اسکے بعد جیل حکام کی دوڑیں لگ گئیں کہ آخر ٹوئیٹ کہاں سے ہوا ؟۔رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا کہ اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل بااثر قیدی راجہ محمد ارشد کا وائی فائی اور موبائل استعمال کیاگیا،راجہ ارشد سابق چیئرمین سینٹ محمد میاں سومرو کے بھانجے برسٹر فہد کے قتل میں ملوث تھا اور اس نے جیل حکام کو بھاری رقم ادا کرکے وائی فائی اور موبائل کی سہولت حاصل کی راجہ ارشد کے پاس پانچ سمیں ہیں جن میں امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ پاکستانی سمیں بھی ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جب نواز شریف کو اڈیالہ جیل بھیجنے کا فیصلہ ہوچکا تو جیل میں اپنے بندے لگائے گئے کہ کیسے جیل سے پیغام باہر پہنچایا جائے اور یہ سب تیاری مکمل کرلی گئی ، راجہ ارشد سے بھی اسی بناء پر رابطہ ہوا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…