ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے،کیس میں مدعی ہوں لیکن ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جسٹس شوکت عزیز صدیقی پھٹ پڑے،کیس کی سماعت کے دوران کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 24  جولائی  2018 |

اسلام آباد (سی پی پی)اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے وہ کسی معاملے میں مدعی ہیں لیکن انہیں ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ضلع کچہری کے ساتھ وکلا چیمبرز کی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف دائر خاتون شہری کی درخواست کی سماعت کی ۔ دوران سماعت درخواست گزار خاتون نے جذباتی انداز میں کہا کہ ایف ایٹ کچہری میں غیرقانونی کثیرالمنزلہ عمارات بنائی گئی ہیں۔

قبضہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔درخواست گزار خاتون نے کہا کہ جج صاحب آپ سچے اور کھرے انسان ہیں، جو کچھ آپ نے اس سسٹم کے حوالے سے کہا میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں، 30 جولائی کو آپ کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گی۔ خاتون کی بات پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ کو پتا ہے سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ؟ دیکھ لیں میں کسی معاملے میں مدعی ہوں لیکن ملزم بناکر پیش کیاجارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…