پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

عام انتخابات، ن لیگ کا پارلیمانی بورڈ قائم، ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ شہباز شریف نہیں بلکہ کون کرے گا؟ حیرت انگیز اعلان کر دیا گیا

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے عام انتخابات کے لیے مرکزی پارلیمانی بورڈ قائم کر دیا ہے۔ انتخابات کے لیے تین مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، لاہور آفس انتخابات کی تمام سرگرمیوں کا مرکز ہو گا، ن لیگ نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں سے انتخابی ٹکٹ کے لیے درخواستوں کی وصولی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس مرکزی پارلیمانی کمیٹی بورڈ میں ن لیگ کے قائد نواز شریف سمیت ن لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق، ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور چاروں صوبائی صدور شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زاہد حامد کو الیکشن سیل کا انچارج مقرر کیا گیا ہے، احسن اقبال منشور کمیٹی کے سربراہ اور سینیٹر مشاہد حسین سید میڈیا کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ چوہدری نثار بھی پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں شامل ہیں، دیگر پارلیمانی بورڈ اراکین میں سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، امیر مقام، شاہ محمد شاہ، عبدالقادر بلوچ، سردار مہتاب، احسن اقبال، برجیس طاہر و سینیٹر پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، خواجہ آصف، اقبال ظفر جھگڑا، بیگم نزہت صادق، انوشہ رحمان، بیگم عشرت اشرف شامل ہیں، پارلیمانی بورڈ کے ارکان کی تعداد حتمی نہیں اس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انتخابات 2018ء کے لیے مسلم لیگ (ن) نے ٹکٹ فارم جاری کر دیے ہیں، ٹکٹ کے لیے درخواستیں پچیس مئی تک پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں جمع کرائی جائیں گی، قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے لیے پارٹی فیس پچاس ہزار رکھی گئی ہے، صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ کے لیے پارٹی فیس تیس ہزار روپے رکھی گئی ہے، قومی اسمبلی میں مخصوص نشست کے لیے فیس ایک لاکھ رکھی گئی ہے جبکہ صوبائی اسمبلی میں مخصوص نشست کے لیے فیس 75 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے مرکزی بورڈ کے علاوہ مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی، ان کمیٹیوں کے سربراہ منشور کمیٹی، الیکشن سیل اور میڈیا کمیٹی کے ارکان نامزد کریں گے اور اس کی حتمی منظوری ن لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف دیں گے۔

موضوعات:



کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…