جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پائلٹس جعلی ڈگری کیس، ایئربلیو پر50 ہزار جرمانہ عائدچیف جسٹس نے یہ 50ہزار کہاں جمع کرانے کا حکم جاری کیا؟جان کر آپ بھی جسٹس ثاقب نثار کو داد دینگے

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

کراچی(آن لائن)چیف جسٹس پاکستان نے ایئربلیو کو اب تک پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق نہ ہونے پر50 ہزارروپے جرمانہ کردیا۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پائلٹس کی مبینہ جعلی ڈگریوں کی تصدیق سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران ایم ڈی ایئربلیو جنید خان عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسارکیا ایئربلیو کا چیف ایگزیکٹیو کون ہے، بتایا جائے کہ آپ کے پاس کتنے پائلٹس ہیں،

ایم ڈی ایئربلیو نے جواب دیتے ہوئے کہا ہمارے پاس 101 پائلٹس جب کہ 251 افراد پر مشتمل عملہ ہے۔ چیف جسٹس نے جعلی ڈگریوں کی تصدیق میں تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک پائلٹس کی ڈگریوں کی تصدیق کیوں نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے ایئربلیو کو50 ہزار روپے جرمانہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ 50 ہزارروپے فاطمید فاؤنڈیشن میں جمع کرائیں، اگر کوئی غیر ذمہ داری داری کا مظاہرہ ہوا توہم مینجنگ ڈائریکٹر جنید خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ایم ڈی ایئربلیونے کہا وزیراعظم کو طلب کرنے سے متعلق بریکنگ نیوزچل رہی تھی جس پر چیف جسٹس نے کہا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سیاسی آدمی ہیں، سیاسی لوگوں کی بریکنگ چلتی رہتی ہے، ہم نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب نہیں کیا تھا۔واضح رہے کہ دوروز قبل سپریم کورٹ نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے کیس میں وزیراعظم کو بطور سی ای او ایئر بلیو حاضر ہونے کا حکم دیا تھا تاہم گزشتہ روز ترجمان وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…