جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

وزارت خزانہ کے حکام کو اب سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنا ہوگا،سپریم کورٹ نے دھماکہ خیز احکامات جاری کردیئے

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت میں وزارت خزانہ کے حکام کو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملہ پر کیس سماعت کی توچیف جسٹس نے ریمارکس

دیتے ہوئے کہاکہ پتہ چلاہے کہ سی ڈی اے کے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی،جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیاکہ سی ڈی اے کے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اداکردی گئی ہے،ڈیلی ویجزملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی میں مسئلہ درپیش ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین کو تنخواہیں بروقت ملنی چاہیے،سی ڈے اے کے وکیل نے اپنے موقف میں کہاکہ میٹروپولیٹن کے ملازمین میئر کے ماتحت ہیں جس پرچیف جسٹس نے جواب دیاکہ آپ کا بیان ریکارڈ کرلیتے ہیں اگر آئندہ ملازمین کو تنخواہوں پر شکایت ہوئی تو چیئرمین سی ڈی اے ذمہ دارہونگے،عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے بیان حلفی طلب کرلیا ٗوزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمارا کام فنڈز کی فراہمی کرناہے ۔وزارت خزانہ کے حکام نے جواب دیاکہ اداروں کے مابین خط و کتابت سے ہماراکوئی تعلق نہیں،ہماری عرض ہے کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملیں۔ بعدازاں عدالت نے ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے کیس نمٹادیاہے۔  سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت میں وزارت خزانہ کے حکام کو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملہ پر کیس سماعت کی توچیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پتہ چلاہے کہ سی ڈی اے کے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی،جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیاکہ سی ڈی اے کے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اداکردی گئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…