جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

امریکی سفارتکارکے ہا تھو ں پاکستانی شہری کی ہلاکت کیس کا فیصلہ محفوظ ،یہ نہیں ہو سکتا جرم بھی ہو اور سزا بھی نہ ہو، اسلام آبادہائیکورٹ نے واضح کردیا

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے پاکستانی شہری کے جاں بحق ہونے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ جب سماعت شروع ہوئی تو فاضل جج نے ریمارکس دیئے ایک سفیر کی سزا کے طریقہ کار کی وضاحت کی جائے یہ تو نہیں ہو سکتا جرم بھی ہو اور سزا بھی نہ ہو ۔ ڈپلومیٹ کے اگر حقوق ہیں تو پاکستانیوں کے بھی حقوق ہیں ۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق پر مشتمل سنگل

رکنی بنچ نے عتیق بیگ نامی شہری کی کرنل جوزف کی گاڑی سے ٹکر سے جاں بحق ہونے کے معاملے پر کیس کی سماعت کی ۔ دوران سمایعت مرزا شہزاد اکبر ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ امریکہ اجازت دے تو پاکستان میں جرم کا ٹرائل شروع کیا جا سکتا ہے ۔ دوسری صورت میں امریکہ میں بھی جرائم کا ٹرائل ہو سکتا ہے ۔ پاکستانی شہریوں کے تحفظ اور حفاظت حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔عدالت سے استدعا ہے کہ حکومت پاکستان کو امری کی سفارتکار کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے ۔ پاکستان ویانا آرٹیکل کی شق 32 کے تحت امریکی سفارتکار کے استثنٰی کے خاتمے کی درخواست دیں ۔ سفارتی استثنٰی ختم نہ کئے جانے کے کی صورت میں امریکہ خود کرنرل جوزف کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائے اور داد رسی نہ ہونے پر پاکستان کو عالمی ادارہ انصاف سے رجوع کرنا چاہئے ۔ بعدازاں وزارت خارجہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عدالت جو بھی حکم دیں اس پر عملدرآمد کیا جائے گا ۔ جس کے بعد عدالت نے امریکن سفارتکار کے خلاف ٹرائل اور نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…