جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو کیا ہوتا؟حکومت نے وجہ بتادی

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ نہ پیش کرنا چوائس نہیں تھی، اگر 4 ماہ کا بجٹ پیش کرتے تو معیشت بے یقینی کی لپیٹ میں آ جاتی۔ اپنے ایک بیا ن میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایوان میں اپوزیشن کا احتجاج اور ہلڑ بازی منفی تھی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل چاہیے اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت انتخابات جیت کر اہداف پورے کرے گی۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کار پورے سال کے تخمینوں پر منصوبہ بندی کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ حکومت کی ترجیحات کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کے لیے بھی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے مالی سال 19۔2018 کے لیے 5 ہزار 932 ارب 50کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کا اعلان کیا تھا۔اپوزیشن کا موقف تھا کہ بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل مفتاح اسماعیل کو وزیر بناکر وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا حق مارا گیا، جبکہ مفتاح اسماعیل قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن بھی نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے مفتاح اسماعیل کو وفاقی وزیر کا درجہ دینے پر تنقید کی، جس پر اپوزیشن اراکین نے ‘شیم شیم’ کے نعرے بھی لگائے۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت یہ بجٹ پیش کرکے اگلی اسمبلی کا حق چھین رہی ہے، حکومت کو کوئی حق نہیں کہ وہ ایک سال کا بجٹ پیش کرے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی کا بھی کہنا تھا کہ ایک ماہ کی مہمان حکومت کے پاس پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا جواز نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…