جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نوجوانوں کو جنگ سے بچانے کیلئے تنازعات کا حل ضروری ہے، ملیحہ لودھی

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک(آئی این پی ) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو جنگ سے بچانے کیلئے دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہے،نوجوانوں کے پاس جینے کا مقصد نہ ہو تو وہ مرنے کے لیے کوئی مقصد تلاش کرلیتے ہیں،پاکستان نے انتہا پسندی کے تدارک کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی ، کوئی ماں کے پیٹ سے دہشت گرد بن کر پیدا نہیں ہوتا ۔

سلامتی کونسل میں نوجوان، امن و سلامتی کے موضوع پر مباحثہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ دیرینہ تنازعات اور غیر ملکی قبضوں کی وجہ سے نوجوانوں کو خطرات ہیں، نوجوانوں کو مسلح تصادم میں شمولیت سے بچانے کیلئے دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہے، نوجوانوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کی بجائے قیام امن میں شراکت دار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی آبادی کا 46 فیصد 25سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان معاشی اور سماجی ترقی، مثر اداروں کے قیام کے معمار ہیں، پاکستان نے انتہا پسندی کے تدارک کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے اور نوجوان نسل کو معاشرے کا پیداواری رکن بنارہا ہے۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ کوئی ماں کے پیٹ سے دہشت گرد بن کر پیدا نہیں ہوتا لیکن ناختم ہونے والی مایوسی کی طویل رات خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ اگر نوجوانوں کے پاس جینے کا کوئی مقصد ہی نہ ہو تو وہ مرنے کے لیے کوئی مقصد تلاش کرلیتے ہیں، ہمیں نوجوان نسل کے غلط امیج کو ذمہ داری کے ساتھ ختم کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…