جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’وہ تمہاری ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہی ہے‘‘ رات گئے چیف جسٹس ثاقب نثار کو کس نے اور کیا پیغام ایس ایم ایس کیا؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 23  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں کٹاس راج مندر سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ رات مجھے ایک پیغام موصول ہوا کہ ایک سیمنٹ فیکٹری میری ریٹائرمنٹ کا انتظار کر رہی ہے۔ ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا۔عدالت نے زیرزمین پانی کے استعمال کی اجازت دینے والے افسران کو کل طلب کر لیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کی سماعت کی۔چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت کہا کہ رات مجھے ایک پیغام آیا،ہوسکتا ہے کسی نے مذاق کیاہو،پیغام تھاکہ فیکٹری میری ریٹائرمنٹ کاانتظار کررہی ہے۔اس پر وکیل سیمنٹ فیکٹری نے کہا کہ یہ پیغام ہماری طرف سے نہیں ہوسکتا،ہم قدرتی چشمہ سے پانی کی ضرورت پوری کررہے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قدرتی چشمے پر کسی کاحق نہیں،قدرتی چشمے کاپانی استعمال کرناایک اورغیرقانونی اقدام ہے،ہمارامقصد معاملے کاحل نکالناہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سی پیک نہ ہوتا تو ایک لمحے میں فیکٹری بند کر دیتے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہر سال 7 ارب روپے کاپانی فیکٹری استعمال کرتی ہے،جب سے فیکٹری لگی ہے،حساب کریں تواربوں کاپانی بن جاتاہے،یہ صرف کٹاس راج کامعاملہ نہیں،حکومت پنجاب قانون کے مطابق اختیار استعمال کرے۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیکٹری مالکان حکومت سے مل کر معاملے کا حل نکالیں انہوں نے کہا کہ حل نہ نکلا تو فیکٹری بند کرنے کا آپشن بھی موجود ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پوٹھوہار خطے میں چھوٹے ڈیم بنائے جا سکتے ہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ فیکٹری عرصے سے زیر زمین پانی استعمال کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ماحولیاتی ایجنسی کو زیر زمین پانی استعمال کرنے کی اجازت کا اختیار نہیں۔ماحولیاتی ایجنسی کے جن افسروں نے اجازت دی انہیں نہیں چھوڑوں گا۔افسروں نے کس طرح اربوں روپے کے پانی کے استعمال کی اجازت دی؟ فیکٹری مالکان کو صرف پیسے کمانے کا رومانس ہے۔اس پر سی ای او فیکٹری نے کہا کہ اداروں سے اجازت لے کرپانی استعمال کیا،چیف جسٹس نے کہا کہ جنہوں نے پانی کے استعمال کی اجازت دی انہیں لے آئیں،کیوں نہ معاملہ نیب کوبھیج دیں،اربوں کاپانی استعمال کیاگیا۔ پانی کی جو حالت ہے آئندہ آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔ ڈیمز بنا کر پانی کو محفوظ کرنے کے لیے کچھ نہیں کرنا؟ لوگوں کو پانی میسر نہیں ذمہ دار کون ہے؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ علاقہ میں پانی کی کمی سے مویشی مر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…