منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

میرے ساتھ رات بھر یہ کام ہوتا رہا تو یہاں کی عوام کا کیا حال ہوتا ہو گا؟ چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ پشاور میں دوران قیام پہلی ہی رات کیا ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

پشاور (نیوز ڈیسک) گزشتہ دنوں جب چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار پشاور گئے تھے، وہاں انہوں نے ایک رات قیام کیا، ان کے قیام کے دوران رات کو سات مرتبہ لوڈ شیڈنگ ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوموٹو نوٹس پر کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ اگر یہ ہو رہا ہے تو عوام کی کیا حالت ہوگی، یہ عوام کے بنیادی حقوق ہیں اور یہ آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں آپ یہ سہولیات مہیا کریں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ صوبے میں پانچ سال کے دوران کتنی بجلی پیدا کی گئی؟ جس کا جواب دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ حکومت نے اب تک 75 میگاواٹ بجلی پیدا کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 1400 میگاواٹ کی طلب کے صوبے کے لیے 75 میگاواٹ کیا حیثیت رکھتی ہے؟ واضح رہے کہ گزشتہ روز چار سدہ میں جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان ٗجسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ اب ہماری عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑیگا اور اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کریگی تو ہم شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کرپائیں ٗانسٹی ٹیوشن عمارت سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں ٗ جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں ٗہمارے قانون پرانے ہیں ٗ اپ ڈیٹ کر نا مقننہ کا کام ہے ٗ انصاف کا تاخیر سے ملنا انصاف کی موت ہے ٗٹرائل میں جو تاخیر ہوتی ہیں ان کا حل دیاجائے ٗ دیانت داری، بہترین صلاحیت اور ایمانداری کیساتھ رات دن محنت کریں ٗوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے پوچھا کتنے نئے تعلیمی ادرے قائم کیے، اس پر کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل سکا ٗجو سوموٹو ایکشن لیے وہ بنیادی حقوق سے منسلک ہوں گے۔ جمعہ کو جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ انسٹی ٹیوشن عمارت سے نہیں بنتے،

یہ شخصیات سے بنتے ہیں، دنیا میں قومیں علم، لیڈرشپ، عدالتی نظام اور انسٹی ٹیوشنز سے ترقی کرتی ہیں، جو قومیں ایڈہاک ازم پر چلتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ادارے ترقی کی ایک مثال ہوتے ہیں، وقت آگیا ہے کہ اب ہماری عدلیہ کو ڈیلیور کرنا پڑیگا ٗ اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کرے گی تو ہم شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کرپائیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ ہمارے قانون بہت پرانے ہیں، ان قوانین کو اپ ڈیٹ کرنا مقننہ کاکام ہے، ہم نے قانون کو اپ ڈیٹ نہیں کیا، سب سے بڑا مسئلہ ہے لوگوں کو جلد انصاف نہیں ملتا، وہ کیوں نہیں ملتا، اکیلا اس سوال کا جواب نہیں ڈھونڈ پارہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…