جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

دنیا کے سب سے بھاری ترین طیارے کی پاکستان کے بڑے ایئر پورٹ پر ٹیکنیکل لینڈنگ،روسی طیارہ انتونوواین سوویت آرمی بھی استعمال کرتی رہی ، حیرت انگیزانکشافات

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے سب سے بھاری طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پرٹیکنیکل لینڈنگ کرائی گئی، طیارہ کوالالمپور سے دمام جا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کا سب سے بڑے انجنوں پر مشتمل کارگو طیارے میں اچانک فیول کی کمی پیدا ہوگئی،

جس کے باعث کپتان نے کراچی ایئرپورٹ پر کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرتے ہوئے ٹیکنیکل لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔ اجازت ملنے پر روسی ساختہ ہیوی طیارہ انتونوو این-225 مریا کو باحفاظت کراچی ایئرپورٹ اتار لیا گیا۔ کرچی ایئرپورٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کا ہیوی ترین طیارہ دوسری بار لینڈ کیا ہے، دو سال قبل بھی دنیا کے ہیوی ترین طیارے نے فنی خرابی کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی تھی ۔یہ دنیا کا واحد ایسا طیارہ ہے، جس کا ونگ ایریا بوئنگ 747 طیارہ کے ونگ ایریا سے تقریبا دوگنا ہے، یہ طیارہ دو ایئر کرافٹ یا 10 برطانوی ٹینک لے کر لے اڑان بھر سکتا ہے، طویل عرصہ تک اس کارگو طیارہ کا استعمال سوویت آرمی کی طرف سے کیا گیا تھا، ساتھ ہی اسپیس شپ لے جانے کے لئے بھی اس کارگو طیارہ کا استعمال ناسا کر چکا ہے۔ دنیا کے سب سے بھاری طیارے کی کراچی ایئرپورٹ پرٹیکنیکل لینڈنگ کرائی گئی، طیارہ کوالالمپور سے دمام جارہا تھا۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا سب سے بڑے انجنوں پر مشتمل کارگو طیارے میں اچانک فیول کی کمی پیدا ہوگئی، جس کے باعث کپتان نے کراچی ایئرپورٹ پر کنٹرول ٹاور سے رابطہ کرتے ہوئے ٹیکنیکل لینڈنگ کی اجازت طلب کی ۔اجازت ملنے پر روسی ساختہ ہیوی طیارہ انتونوو این-225 مریا کو باحفاظت کراچی ایئرپورٹ اتار لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…