جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

اگر فوج نے یہ کام کیا تو پھر اس دن۔۔ تقریب کے دوران چیف جسٹس کا لہجہ سخت ہو گیا، دوٹوک پیغام دیدیا

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کس چیز کا مارشل لا، کیسا مارشل ؟ مارشل لا لگانے کس نے دینا ہے؟چیف جسٹس کا تقریب سے خطاب، مارشل لا کی صورت میں تمام ججز سمیت ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ایوان اقبال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ کہوں تو میڈیا پر

بھونچال آجاتا ہے کہ ملک میں مارشل لا لگ جائے گا، او بھئی کس چیز کا مارشل لا، کیسا مارشل ؟ مارشل لا لگانے کس نے دینا ہے؟ ہمارے ملک میں جمہوری حکومت ہے ، جس دن ہمارے اوپر شب خون مارا گیا تو نہ صرف میں بلکہ میرے تمام 17 ججز نہیں ہوں گے،قائداعظمؒ کے پاکستان میں صرف جمہوریت کی جگہ ہے، مارشل لا کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، نہ ہی کسی نے ملک میں مارشل لا لگانے دینا ہے، جس دن ہمارے اوپر شب خون مارنے کی کوشش ہوئی سپریم کورٹ کا کوئی جج نہیں ہوگا۔“چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک اقبال کے تصور کے تحت بنا ہے اور اقبال اس ملک میں جمہوریت چاہتے تھے، یہ ملک صرف اور صرف جمہوریت کیلئے بنا ہے کسی اور ماورائے آئین چیز کی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی جوڈیشل مارشل کا تصور نہ آئین میں ہے اور نہ ہمارے ذہنوں میں ہے اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں اور اپنے ذہن صاف کریں، اس طرح کی کوئی چیز آئین میں موجود نہیں ہے اور ہم ماورائے آئین کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہیں، ہم قوم کی سپورٹ کے ساتھ حقوق کیلئے لڑیں گے اور جس دن نہ لڑ سکے اس دن نوکری چھوڑکر گھر چلے جائیں گے۔تقریب کے موقع پر سٹیج پر چیف جسٹس کے بائیں جانب حکیم الامت ، شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی بہو جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال اور دائیں جانب سینئر صحافی عارف نظامی براجمان تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…