جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے بھری عدالت میں ایسی بات کہہ دی کہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے موقع پر ہی عہدے سے استعفیٰ دیدیا، وہ کام ہو گیا جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیںہوا

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (آئی این پی) سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو معطل کرتے ہوئے سینئر ترین پروفیسر کو وی سی لگانے کا حکم دیدیا، عدالتی فیصلے کے بعد ڈاکٹرذکریا ذاکر نے اپنا استعفیٰ سپریم کورٹ میں پیش کردیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی 80کنال اراضی حکومت کو دی‘ آپ ہوتے کون ہیں یونیورسٹی کی اراضی حکومت کودینے والے؟‘ لوگوں کو لگایا ہی اس لیے جاتاہے کہ حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کریں۔

ثابت ہوگیا کہ حکومت مطالبات منوانے کیلئے مستقل وی سی نہیں لگاتی‘اڑھائی سال سے مستقل وائس چانسلر کیوں تعینات نہیں کیا گیا، آگاہ کیا جائے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب یونیورسٹی کی زمین اورنج لائن ٹرین منصوبے کو دینے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی ، اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے گرڈ اسٹیشن اور اورنج لائن منصوبے کیلئے حکومت کو 80 کنال اراضی دی ہے جس پر چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کی اراضی پر حکومت کو گرڈ اسٹیشن دینے پر از خود نوٹس لے لیا۔کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پنجاب یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر ذاکر زکریا کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے یونیورسٹی کے سینئر ترین پروفیسر کو وائس چانسلر لگانے کا حکم دیا اور وی سی کی تعیناتی کیلئے نئی سرچ کمیٹی کی بھی ہدایت کی، سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعد وی سی پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر ذاکر زکریا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کس حیثیت میں یونیورسٹی کی اسی کنال اراضی حکومت کو دی، آپ ہوتے کون ہیں یونیورسٹی کی اراضی حکومت کودینے والے؟ لوگوں کو لگایا ہی اس لیے جاتاہے کہ حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کریں، ثابت ہوگیا کہ حکومت اپنے مطالبات منوانے کیلئے مستقل وی سی نہیں لگاتی، ڈھائی سال سے مستقل وائس چانسلر کیوں تعینات نہیں کیا گیا، آگاہ کیا جائے کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…