جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ الٹا۔۔!!! چیف جسٹس نے پشاور کے ہسپتال کا دورہ کیا تو لوگ پھٹ پڑے وہ کچھ کہہ دیا کہ عمران خان کو منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑا

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی جو وہ نہ کرسکی۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہر اتوار کو یہاں عدالت لگانے آجاتا ہوں ٗعوام کوبنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری تھی،

حکومت نہیں کرسکی اب ہم کریں گے۔دوسری جانب چیف جسٹس نے پشاور میں الرازی میڈیکل کالج کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی کالج کی جانب سے طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور لیبارٹری کینام پر طلبہ سیلاکھوں روپے لیے جارہے ہیں تاہم ان کو سہولیات کی فراہمی بہت کم ہے۔چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو نجی میڈیکل کالج کا ریکارڈ قبضے میں لینے کا حکم دیا۔علاوہ ازیں چیف جسٹس نے پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا، اس موقع پر آئی جی کے پی کے اور محکمہ صحت کے حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔چیف جسٹس کے دورے کے موقع پر ہسپتال میں موجود شہریوں نے شکایات کے انبات لگاردیئے۔شہریوں نے شکوہ کیا کہ سیکیورٹی نہیں، علاج نہیں، کوئی تبدیلی نہیں آئی ٗچیف جسٹس صاحب آپ سے توقعات ہیں۔دوسری ڈاکٹر بھی پھٹ پڑے اور بولے کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں جب کہ کام زیادہ لیا جارہا ہے۔دریں اثناء چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے پشاور سپریم کورٹ رجسٹری آمد پر انصاف کی منتظر خاتون سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئی اور دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اسے انصاف فراہم کیاجائے۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی پشاور سپریم کورٹ رجسٹری میں اہم مقدمات کی سماعت کیلئے آمد پر صوابی سے تعلق رکھنے والی خاتون سلمہ بھی سپریم کورٹ رجسٹری پہنچ گئی۔ سلمہ نے انصاف کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ میری بہن کو 4 سال پہلے حیات آباد میں گھر کے اندر قتل کیا گیا، پچھلے 4 سال سے انصاف کیلئے دربدر پھر رہی ہوں لیکن کہیں سنوائی نہیں ہوئی لہٰذا اب چیف جسٹس سے انصاف مانگنے آئی ہوں، چیف جسٹس مجھے انصاف فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…