جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پولیس افسران کن صحافیوں کوشراب پیش کرتے ہیں ؟عدالت میں تہلکہ خیز انکشاف

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی )ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے دارالحکومت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ پولیس تفتیشی افسران کے کمروں میں دن کو منشیات اور رات کو لڑکیاں ملتی ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وفاقی دارالحکومت میں جرائم کی بڑھتی شرح پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ آئی جی پولیس سلطان اعظم تیموری اور ایس ایس پی عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ

اسلام آباد پولیس کے 90 فیصد افسران جرائم میں ملوث ہیں، دارالحکومت میں جگہ جگہ شراب فروشی کے اڈے اور قحبہ خانے کھلے ہیں، کوہسار مارکیٹ میں شیشے اور منشیات کے اڈے چل رہے ہیں، بیوروکریٹ اور بااثرافراد سر عام شراب پیتے ہیں، ایک جج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ مدہوش ہو کر غل غپاڑہ کرتا ہے، اس کے پڑوسی بھی اس سے تنگ ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پولیس محض دکھاوے کے لیے کپیاں بیچنے والوں کو پکڑتی ہے، پولیس بااثر افراد پر بھی ہاتھ ڈالے، تفتیشی افسران کے کمروں میں دن کو منشیات اور رات کو لڑکیاں ملتی ہیں، انسپکٹر بوسکی کا سوٹ پہن کر گلے میں چین ڈالے تو تماش بین بن جاتا ہے، پولیس افسران لیڈیز پولیس اہلکاروں کو بھی نہیں چھوڑتے، خواتین پولیس اہلکار چیخ رہی ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئی جی صاحب، آپ کے افسران اینکرز کوشراب کی بوتلیں دیتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کونسا اینکر پولیس سے رشوت لیتا ہے، کون کون سے ججز، سرکاری آفیسر اور مولوی شراب اور منشیات لیتے ہیں، پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے، قانون اجازت دے تو عصمت دری کرنے والے ڈی ایس پی کو ڈی چوک پر شوٹ کیا جائے۔آئی جی پولیس نے کہا کہ اگر مجھے نوکری سے فارغ بھی کیا جائے تو کوئی غم نہیں

مگر پولیس کو پاک صاف کرکے دم لوں گا، اس سال 21 قحبہ خانوں کے خلاف ریڈ کیا، جرائم کے اڈے ختم نہ کرا سکا تو عہدہ چھوڑ دوں گا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 15 دن کے لئے ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…