منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

راول ڈیم کے قریب شادی ہالز اور بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ،انہیں گرایا جائے گا یا نہیں؟سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیر قانونی ہے تو اسے بھی گرا دیا جائے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں غیرقانونی شادی ہال تعمیرات کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ راول ڈیم کے قریب شادی ہالز اور بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہیں،

عدالت نے بنی گالہ میں تعمیرات ریگولر کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعمیرات کو ریگولر کرنے کا میں نے نہیں کہا، وفاقی وزیر کیڈ طارق فضل چوہدری نے تعمیرات ریگولر کرنے کا فیصلہ کیا ٗریگولر کرنا ہے تو کریں، ریگولر نہیں کرنا تو نہ کریں ٗیہ تاثرغلط ہے عدالت نے تعمیرات ریگولر کرنے کا کہا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ مارگلہ نیشنل پارک میں کسی صورت تعمیرات نہیں ہوسکتی، جب نیشنل پارک میں شادی ہال بنا تب سی ڈی اے کدھر تھا؟ ممبر سی ڈی اے نے جواب دیا کہ زون ون میں شادی ہالز نان کمرشل جگہوں پر بنے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی تعمیرات مل ملا کر ہوتی ہیں اور سی ٹی اے بھی اس میں ملوث ہے۔ شادی لان کے وکیل نے کہا کہ بنی گالہ میں عمران خان کے گھرسمیت تعمیرات غیرقانونی ہیں، دو کلومیٹر کے دائرے میں کئی شادی ہال ہیں، سپریم کورٹ کی بلڈنگ بھی 2 کلومیٹر کے اندر آتی ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایسا ہے تو سپریم کورٹ کو بھی گرا دیں جس پر لان کے مالک جمیل عباسی نے بتایا کہ شادی لان قوانین کے مطابق ہے، عدلیہ بحالی تحریک میں تین مرتبہ جیل گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا ہو سکتا ہے چوتھی مرتبہ بھی جانا پڑ جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ چک شہزاد میں فارم ہاؤسز سبزیوں کی افزائش کیلئے دیئے گئے تھے لیکن وہاں محل جیسے گھر بنے ہوئے ہیں، یہ اراضی کس نے لیز پر دی؟ وکیل نے بتایا کہ فارم ہاؤسز پر بڑے بااثر لوگ رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کون بڑے اور بااثر لوگ ہیں ؟ ایک مرتبہ قانون کی حکمرانی قائم ہوگئی تو سب ٹھیک ہوجائے گا ٗضرورت ہوئی تو چک شہزاد فارم ہاؤسز کا معائنہ بھی کرسکتے ہیں ٗ غریب آدمی کو ایک کوٹھڑی نہیں ملتی، کیا صرف امیر آدمی کی زندگی ہے؟ اس ملک میں اس کلچر کو ختم کرنا ہے۔ چک شہزاد میں سبزیوں کے فارم ہاؤسز پر محل نما گھر بنانے والوں کو نوٹس جاری کر کے بلائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں غصے میں کسی کی سرزنش نہیں کرتا لیکن میڈیا پرمیری طرف سے سرزنش کے الفاظ چل جاتے ہیں اور بلاوجہ میری بدنامی کرتے ہیں، ہم صرف سوالات پوچھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…