جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایک ہی جرم کی سزا دو بار نہیں دی جاسکتی ،مشرف کو عدالت کیلئے گھر سے نکالا تھا، گاڑیاں راستے میں مڑ گئیں ،پرویز رشید کی فوج پر کھلی تنقید، بہت کچھ کہہ دیا

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایک ہی جرم کی سزا دو بار نہیں دی جاسکتی ،کمزوربنیادوالے فیصلے پرسخت سزا ہضم نہیں ہوگی،مشرف کو عدالت کے لیے گھر سے نکالا تھا، گاڑیاں راستے میں مڑ گئیں اورجس ہسپتال گئیں ہم اس کے قریب سے بھی نہ گزرسکے،انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے کسی اور کا نہیں،کوئی دوسرا کہتا ہے کہ میں بھی یہ ذمہ داری پوری کروں گا تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو میں پرویز رشید نے کہا کہ کیا کبھی کسی وزیراعظم نے عدالت سے کہا ہے کہ اس کی وفاداری کا حلف اٹھائیں؟ ۔انہوں نے پرویز مشرف کے حوالے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم سے اتنا بھی نہ ہوا کہ عدالت جانے کی بجائے ہسپتال جانے پر میڈیکل بورڈ بھیجتے یاپوچھتے کہ گاڑیاں کیوں مڑیں۔ کچھ کرتے توانجام کا پتہ تھا جو 12اکتوبر جیسا ہوسکتا تھا۔ہم نے آنکھیں بند کرلی ہوں گی،شرم سے منہ پھیرلیاہوگا، بے بسی چھپانے کی کوشش کی ہو گی لیکن دل میں ہمیں پتہ تھا کہ ہم بے بس ہیں۔پرویزرشید نے نام لیے بغیرجنوبی پنجاب صوبے کے نام پروفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان سے متعلق کہا کہ وفاق کی جگہ علاقائی اورفرقہ وارانہ سیاست ملک کے لئے زہرہے،آگ کا خطرناک کھیل کھیلا جارہاہے جس سے انگلیاں جلیں گی۔انہوں نے کہا کہ علاقائی اور فرقہ وارانہ نعروں سے جمہوریت کو تونقصان پہنچنا ہی ہے وفاق کوبھی خطرہ ہے،یہ وہ مخصوص ذہن ہے جوکنٹرولڈ جمہوریت چاہتاہے، ووٹ لیکرہم ایسے ہتھیاروں کو کند کریں گے جونظریہ ضرورت سے جنم لیتے ہیں۔ناراض لیگی رہنماچوہدری نثارکو پارٹی ٹکٹ دینے کے معاملے پرپرویز رشید نے دوٹوک اندازمیں واضح کردیا کہ چوہدری نثار اگر ٹکٹ مانگیں گے ہی نہیں تو دینے یانہ دینے کا سوال ہی نہیں۔ (ن) لیگ کے تمام پارلیمانی بوردز کا ممبر رہا ہوں۔ نوازشریف سمیت ہرکسی کو ٹکٹ درخواست پر ہی ملتا ہے اورآئندہ بھی یہی ہوگا۔آصف زرداری سے متعلق پرویز رشید نے کہا کہ زرداری صاحب قبائلی جنگجوہیں جونوازشریف سے بدلہ لے رہے ہیں، وہ نوازشریف کوبنیاد بناکرقوم کے لئے دشواریاں پیدا نہ کریں۔پرویز رشید نے یہ پیغام بھی دیا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے کسی اور کا نہیں۔کوئی دوسرا کہتا ہے کہ میں بھی یہ ذمہ داری پوری کروں گا تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…