جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

مرضی کے فیصلے نہیں کرتے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں، چیف جسٹس

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

کوئٹہ (آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مرضی کے فیصلے نہیں کرتے‘ آئین و قانون کے مطابق چلتے ہیں‘ عدلیہ بھرپور انداز میں اپنا کام کررہی ہے جس پر فخر ہے‘ قانون میں سقم رہ گیا تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہے‘ ہم کوئی معمولی قاضی نہیں ہیں ‘ قوم کا مستقبل ہمیں بھی دیکھنا ہے‘ انصاف نہیں کرینگے تو اپنے مستقبل کے خود ذمہ دار ہوں گے‘ ہم قانون سازی نہیں کرسکتے ۔

لیکن قانون پر عمل ضرور کراسکتے ہیں‘ مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی ذمہ داری ہم سب پر ہے ‘ جانتے ہیں کہ عدلیہ کے پاس وسائل ناکافی نہیں اور حکومت کی جانب سے بھی تعاون نہیں کیا جارہا۔ بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناانصافی پر مشتمل معاشرہ نہیں چل سکتا۔ شدت سے محسوس کررہا ہوں کہ ہم صلاحیت استعمال نہیں کررہے ہم وہ جج ہیں جو صرف قانون کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ فریق جانتے ہوں یا نہیں‘ انصاف کی فراہمی جج کا کام ہے مرضی کے فیصلے نہیں کرتے آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں۔ کوئی بھی فیصلہ دینے کے لئے قانون و آئین کا مکمل پتہ ہونا چہائے ہم کوئی معمولی قاضی نہیں قوم کا مستقبل ہمیں بھی دیکھنا ہے۔ آپ لوگ جوڈیشل نظام کے بنیادی ستون ہیں حیران ہوں ہمارے قابل ججز کہاں چلے گئے ہیں۔ ایسے ججز ہوتے تھے جو فیصلے لکھتے لیکن اس میں کٹنگ نہیں ہوتی تھی۔ سیشن جج بھی فیصلہ لکھتا تھا تو سپریم کورٹ اسے برقرار رکھتی۔ کسی بھی معاشرے میں انصاف کا ہونا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگ رہا ہے ہم اس جذبے کے ساتھ انصاف نہیں کررہے۔ انصاف نہیں کرینگے تو اپنے مستقبل کے ذمہ دار خود ہونگے۔ انصاف دینا ہم پر قرض ہے اور کوئی بھی قرض نہ دیکر جانا نہیں چاہتا۔ ہم قانون سزی نہیں کرسکتے لیکن قانون پر عمل ضرور کراسکتے ہیں جو قانون بنائے گئے ہیں ہمیں ان پر ہی عمل کرانا ہے۔

یہ درستہے کہ لوگ تیس چالیس سال مقدمہ بازی میں لگے رہتے ہیں مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی ذمہ داری ہم سب پر ہے جو شخص انصاف کیلئے لڑرہا ہے فیصلے میں تاخیر کا ذمہ دار کوں ہوگا جانتے ہیں ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں اور حکومت کی جانب سے بھی ویسا تعاون نہیں مل رہا۔ ہم نے اپنے گھر کو ٹھیک نہیں کیا تو اﷲ کے سامنے کیا جواب دیں گے۔

قانون میں سقم رہ گیا تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہوتی ہے وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے گھر کو ان ہائوس لانا ہے۔ سمجھ نہیں آتی ایک سول مقدمے میں چار چار سال کیسے لگتے ہیں مانتا ہوں ہمارے پاس انگریز دور کے قانون تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے جو قانون موجود ہیں ان میں رہتے ہوئے بہترین ا نصاف فراہم کریں۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ہماری عدلیہ کرپٹ ہے عدلیہ بھر انداز میں اپنا کام کررہی ہے جس پر فخر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…