جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے خلاف دو محاذ والی صورتحال، سبوتاژ کے ماہر بھارتی ایجنٹوں کی پاکستان آمد، امریکہ، بھارت اور افغانستان کا خوفناک منصوبہ کیا ہے؟ امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ لشکر طیبہ پر پاکستان میں بھی پابندی ہے جب کہ ملی مسلم لیگ الیکشن کمیشن میں اپنا اندراج کرانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ انتخابات میں شریک ہو سکے تاہم اس بارے میں حکومت پاکستان کے اپنے تحفظات ہیں جنھیں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔بھارت جاسوس اوردہشتگرد بھیج کر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کرر ہاہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے عدالتوں بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جوا ب میں کہاکہ کسی بھی جمہوریت میں قانون کی حکمرانی کی اولین اہمیت ہوا کرتی ہے، جو کردار وہ ملک میں ادا کر رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ عدالتی عمل کے حوالے سے میں کسی قسم کی رائے زنی نہیں کر سکتا اور یہ کہ قانون کے حکمرانی کے عمل کو ہی سب باتوں پر سبقت حاصل ہوتی ہے۔افغانستان میں بھارت کے کردار کے بارے میں ایک سوال پر سفیر نے کہا کہ اگر یہ معیشت اور ترقی تک محدود ہے تو پاکستان کو اس پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں۔تاہم، اْنھوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو اس بات کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے کہ وہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے، اپنی حکمتِ عملی کے مقاصد کو آگے بڑھائے یا پاکستان کے لیے عدم استحکام کا باعث بنے۔اعزاز چودھری نے کہا کہ جب امریکہ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں نئی حکمت عملی کا اعلان کیا تھا اس میں اس بات کا اشارہ دیا گیا تھا کہ افغانستان میں بھارت کا ایک وسیع کردار ہوگا۔ اْنھوں نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کردار کیا ہوگا۔ آیا یہ ترقیاتی نوعیت کا ہوگا؛ معاشی، فوجی یا اسٹریٹجک کردار ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ بھارت افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے اپنے دو مقاصد آگے بڑھا رہا ہے۔ ایک یہ کہ پاکستان کے خلاف دو محاذ والی صورت حال پیدا کی جائے اور دوسرا یہ کہ جاسوس اور عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر بھیج کر پاکستان کے لیے مشکلات کھڑی کی جائیں۔بظاہر کلبھوشن جادیو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اْنھوں نے کہا کہ حالانکہ وہ افغانستان سے پاکستان میں داخل نہیں ہوئے، وہ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر ہیں، جو انٹیلی جنس کا کام کیا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…