جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے قصور ویڈیو سکینڈل کیس کا ایک اور فیصلہ سنا دیا

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

لاہور( آن لائن )لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 3 ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 4 کے جج چوہدری الیاس نے مقدمہ نمبر 257 میں جرم ثابت نہ ہونے پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے تینوں ملزمان حسیم عامر، فیضان مجید اور نسیم شہزاد کو ناکافی ثبوتوں اور جرم ثابت نہ ہونے پر بری کرنے کا حکم دیا۔خیال رہے کہ ان ملزمان پر ویڈیو اسکینڈل سے

متاثرہ بچے ارسلان اصغر کے ساتھ بد فعلی کی ویڈیو بنانے کا الزام تھا، اس کے ساتھ ساتھ ملزمان پر اغوا، بھتہ اور حراساں کرنے کے بھی الزامات تھے جبکہ نامزد ملزمان کے خلاف تھانہ گنڈا سنگھ قصور میں مقدمہ درج تھا۔دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے ارسلان اصغر کو متعدد بار بدفعلی کا نشانہ بنایا اور وہ متاثرہ بچے کی ویڈیوز بنا کر بھتے کا مطالبہ کرتے تھے۔تاہم سماعت کے دوران سرکاری وکیل کی جانب سے ناکافی ثبوت پیش کرنے پر عدالت نے ان ملزمان کو بری کردیا۔واضح رہے کہ 15 مارچ کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور ویڈیو اسکینڈل کے ایک اور کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم حسیم عامر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔اس سے قبل بھی 2 مقدمات میں جرم ثابت ہونے پر حسیم عامر کو عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی چکی ہے۔یاد رہے کہ 2015 میں یہ رپورٹس منظر عام پر آئیں تھی کہ قصور سے پانچ کلو میٹر دور قائم حسین خان والا گاں کے 280 بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنائی گئی جبکہ ان بچوں کی عمریں 14 سال سے کم بتائی گئی تھیں۔رپورٹس کے مطابق ان بچوں کے خاندانوں کو ویڈیو دکھا کر بلیک میل بھی کیا جاتا تھا اور ان کے بچوں کی ویڈیو منظر عام پر نہ لانے کیلئے لاکھوں روپے بھتہ طلب کیا جاتا تھا۔

بچوں کے ساتھ ہونے والی بد فعلی، جنسی زیادتی اور اس کی فلم بندی کے واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد متاثرہ بچوں کے عزیزوں کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی، جس کے بعد متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔قصور اسکینڈل کے حوالے سے 19 مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل کیے گئے تھے جن میں 4 مقدمات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے دیگر عدالتوں میں منتقل کردیا گیا تھا جبکہ دیگر مقدمات زیر التوا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…