جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان33ارب ڈالر نہیں بلکہ کتنے ارب ڈالر کامقروض ہے؟چیئرمین نیب کے انکشاف نے تہلکہ مچادیا

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے، نیب جدید انداز میں بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور تفتیش کیلئے اپنے تفتیشی افسران کی استعداد کار میں اضافہ کو اہمیت دیتا ہے ۔چیئرمین نیب نے یہ بات جمعہ کو نیب ہیڈ کوارٹرز میں ٹریننگ اور ریسرچ ڈویژن کی مجموعی کارکردگی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں نیب کے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کے تربیتی پلان کا بھی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹریننگ اینڈ ریسرچ ڈویژن چیئرمین نیب کی ہدایات کے مطابق سال 2018ء کیلئے تربیتی پروگرام پر عمل کر رہا ہے، یہ بھی بتایا گیا کہ علاقائی بیوروز اور ماہرین کی تجاویز کی روشنی میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد چیئرمین نیب نے کیپسٹی بلڈنگ کیلئے سال 2018ء کے تربیتی پروگرام کی منظوری دی۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ بدعنوانی کا خاتمہ نیب کی اولین ترجیح ہے۔ نیب بدعنوانی سے متعلق مقدمات کی جدید انداز میں تحقیقات اور تفتیش نیب کی مجموعی بہتری کیلئے اپنے افسران کی استعداد کار میں اضافہ کو اہمیت دیتا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ ٹریننگ ایک مستقل عمل ہے جو کہ نیب کے تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کی استعداد کار میں اضافہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب اپنی افرادی قوت کے معیار کی بہتری اور اس کو برقرار رکھنے میں کیپسٹی بلڈنگ کے عنصر کا معترف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے معیار اور یکسانیت کو یقینی بنانے کیلئے تمام تفتیشی افسران کیلئے معیاری سلیبس پر مبنی اکاؤنٹس معاملات، جنرل فنانشل رولز، ایف آر، ایس آر، ڈیجیٹل فارنزک سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹ تجزیہ سے متعلق استعداد کار میں اضافہ کیلئے تربیتی پروگرام وضع کئے ہیں۔ تربیتی پروگراموں کے اہداف کے حصول کا مسلسل جائزہ لیا جائیگا اور تسلسل سے جائزہ کی بنیاد تشکیل دی جائیگی جس سے مستقبل کی تربیتی ضروریات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

دریں اثناء کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ آج ملک تقریباً 84 ارب ڈالرکا مقروض ہے مگر اس قرض کے پیسے کا مصرف کہیں نظر نہیں ا?تا۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ صرف نیب نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فردکی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف خودکرپشن سے انکار کرے بلکہ اپنے اردگرد رہنے والے افراد کو بھی اس کینسر سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…