جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ایک آدمی انڈر ٹیکنگ دیکر بھاگ گیا ، کہاں ہے حسین حقانی؟ سپریم کورٹ نے میموگیٹ سکینڈل میں بڑا حکم جاری کردیا

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے استفسار کیا کہاں ہے حسین حقانی؟ کہاں ہیں ڈی جی ایف آئی اے ؟ بتایاجائے حسین حقانی کی گرفتاری سے متعلق کیا پیشرفت ہوئی؟جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس کہا ہے کہ یہ پاکستان اور عدلیہ کی عزت کا معاملہ ہے ، ایک آدمی انڈر ٹیکنگ دے کر بھاگ گیا ہے، کہاں ہے حسین حقانی؟ کہاں ہیں ڈی جی ایف آئی اے؟۔میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ سرکاری حکام نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خزانہ سے کوئی جواب نہیں ملا، وزارت خارجہ نے کچھ پیشرفت کی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا یہ معاملہ زیادہ لمبا نہیں ہوگیا؟ بتایا جارہاہے کہ وہ وزارت خارجہ کی اپنی حدود ہیں، وزارت خارجہ کی کیا حدود ہیں ، بتایا جائے؟حکام نے عدالت کو بتایا کہ وزارت خارجہ کو ایک بیگ ملنا ہے اس میں دستاویزات ہونگی ۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ بدھ کو وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ تشریف لے آئیں ، یہ دو ہی وزارتیں کیس سے متعلق ہیں، وزرا کو بلالیں یا پھر سیکریٹریز آجائیں، یہ پاکستان کی عزت کا معاملہ ہے ، ایک آدمی انڈر ٹیکنگ دے کر بھاگ گیا ہے، اب یہ اس عدالت کی بھی عزت کا معاملہ ہے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کو طلب کرکے پوچھا بتایا جائے امریکا میں موجود حسین حقانی کو کب تک گرفتارکرکے واپس لایاجائے گا، ہم ابھی تک ہونے والی پیشرفت سے مطمئن نہیں، اب تک جو ہوا وہ صرف آنکھ کا دھوکا ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل راناوقار نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات ہورہی ہیں، ایف آئی آر کا اندراج بھی ہوچکاہے۔چیف جسٹس نے کہاایف آئی آر سے متعلق صرف ایک اسٹپ لیا گیاہے، ہم سمجھ رہے تھے وارنٹ بھی جاری ہوگئے ہونگے۔

رانا وقار نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ انٹرپول سے دوبارہ رابطہ کرینگے، کچھ دستاویزات واشنگٹن میں موجود ہے اس وجہ سے تحقیقات مکمل نہ ہوسکیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر وزیرداخلہ اور وزیر خارجہ کو نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹریز کے پاس زیادہ معلومات ہوتی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے دونوں سیکرٹریز کی طلبی کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے سیکرٹریز کوکل بدھ کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…