جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

فوج اور اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ جا کر کیا منتیں کرتے رہے؟ امریکہ نے جواب میں کیا مانگا؟ معروف صحافی نے انتہائی سنگین دعویٰ کر دیا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ نگار ہارون رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہاں انہوں نے منت سماجت کی فوجیوں کی، محترم، محترمہ اور خود وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے بھی منت سماجت کی کہ کسی طرح نواز شریف کے خلاف فیصلے دیر سے آئیں اور ان کے آئندہ اقتدار میں آنے کے چانسز مزید بڑھ سکیں۔

سینئر صحافی نے کہاکہ ان لوگوں نے پہلے فوج اور اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جب اس میں کامیابی حاصل نہ کر سکے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ تشریف لے گئے،جہاں انہوں نے نواز شریف کو بچانے کے لیے امریکہ کی منت سماجت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان سے صرف افغانستان میں تعاون چاہیے، اسی پر وہ چیختے اور شور بھی مچاتے ہیں تو وہ کون کر سکتا ہے؟ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکہ میں میاں نواز شریف کو بچانے کا کہا، سینئر صحافی نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم ہیں لہٰذا انہیں وزیراعظم کی طرح سوچنا چاہیے، پارٹی کے چھوٹے سے کارندے کی طرح نہیں سوچنا چاہیے، یہ ہے مایوسی کی وجہ اور آگے الیکشن جیتنے کے لیے جی حضوری اکٹھے کیے تھے اب وہ بھاگ جائیں گے، انہوں نے کہا کہ جی حضوری تو صرف چڑھتے سورج کی پوجا کرتے ہیں اور ہمیشہ سے یہاں کرتے ہیں۔ یہاں راتوں رات یونینسٹ اور ری پبلک پارٹی بن جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس کلچر کو جتنا دوسروں نے پروان چڑھایا اتنا ہی میاں نواز شریف نے بھی پروان چڑھایا۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار ہارون رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یہاں انہوں نے منت سماجت کی فوجیوں کی، محترم، محترمہ اور خود وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی نے بھی منت سماجت کی کہ کسی طرح نواز شریف کے خلاف فیصلے دیر سے آئیں اور ان کے آئندہ اقتدار میں آنے کے چانسز مزید بڑھ سکیں۔ سینئر صحافی نے کہاکہ ان لوگوں نے پہلے فوج اور اداروں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جب اس میں کامیابی حاصل نہ کر سکے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی امریکہ تشریف لے گئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…