جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

18 سالہ بیٹے کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت، دکھیاری ماں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے سورۃ العصر کی تلاوت کی اور پھر کیا کہا؟ افسوسناک صورتحال

datetime 25  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان لاہور میں گلاب دیوی ہسپتال کا دورہ کرنے کے لیے نکلے تو ایک خاتون صغریٰ بی بی نے ان کی گاڑی روک لی تھی جس کے بعد چیف جسٹس نے گاڑی سے اتر کر اس دکھیاری خاتون کی بات سنی اور اسے اتوار کے روز سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ واضح رہے کہ مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں بیٹے کی ہلاکت کا

مقدمہ لے کر چیف جسٹس کے سامنے پیش ہونے والی خاتون صغریٰ بی بی نے روسٹرم پر آ کر سورۃ العصر کی تلاوت کی اور چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب مجھے بتائیں مجھے انصاف کہاں سے ملے گا اور پولیس کب تک ماؤں کی گودیں اجاڑتی رہے گی؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں 18 سالہ نوجوان کی ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران صغریٰ بی بی نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا اور خاتون چیف جسٹس کو اپنی کہانی بتاتے ہوئے رو پڑیں۔ اس موقع پر صغریٰ بی بی نے عدالت کو بتایا کہ گھر پر قبضہ کرانے کے لیے پولیس نے اس کے 18 سالہ بیٹے کو مار دیا اور پولیس والے اسے بھی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے، صغریٰ بی بی نے کہا کہ جج بھی اس کے کیس کو لٹکا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق اور اقلیتوں کی شکایات کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے سیل بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں گوجرانوالہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان کی ہلاکت کیس کی سماعت کے دوران کہا کہ لاہور رجسٹری میں سیل بنا رہے ہیں تاکہ لوگ وہاں اپنی شکایات بھیجیں۔ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے کہا کہ صغریٰ بی بی کی شکایت سننے کے لیے گاڑی سے اترا لیکن مجھے سکیورٹی نے گاڑی سے اترنے کے لیے منع کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ سکیورٹی کے منع کرنے پر اس طرح رکنا ٹھیک نہیں لگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…