بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

لڑائی کے حق میں نہیں لیکن عدلیہ کو بدلنے کے لئے اب یہ کام ضرور کروں گا،نوازشریف کو متعدد بار وزیراعظم بننے کے بعد ’’اصل مسئلہ ‘‘ سمجھ آگیا، حیرت انگیز اعلان 

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستا ن مسلم لیگ (ن)کے قائد ٗ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ میں لڑائی کے حق میں نہیں ہوں ٗچاہتا ہوں کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے ٗکیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے؟ جو کچھ سینیٹ میں ہوا، تماشا پوری قوم نے دیکھا ٗ بلوچستان کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہئے۔

جمعرات کو یہاں احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں نواز شریف نے کہا کہ کیا آئین اور قانون کے مطابق ملک چلانے کی خواہش بری ہے؟ جو کچھ سینیٹ میں ہوا، تماشا پوری قوم نے دیکھا۔انہوں نے کہا کہ وہ نظام لیکر آئیں گے جو ملک کی ضرورت ہے، موجودہ نظام عدل میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے ٗجامع نظام عدل لانے کے لئے کام کر رہے ہیں، انصاف نہ ملنا یا دیر سے ملنا ملک کا بڑا مسئلہ ہے۔نواز شریف نے کہا کہ بہت کچھ دیکھا ہے آدھی زندگی گزر گئی ، تجربات اچھے اور برے ہوتے ہیں ٗ اچھے تجربات سے سیکھنے کو ملتا ہے ، ملک و قوم کیلئے جو اچھا ہو اس سے دل خوش ہوتا ہے ، اچھے اور برے تجربات دیگر سیاستدانوں کے ساتھ بھی ہوئے انْ سے سیکھنا چاہئے۔صحافی کے اس سوال پر کہ اعتزاز احسن نے کہا تھا آپ سازش کرنے والے کا نام لیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟نواز شریف نے جواب دیا آپ کو لگتا ہے وہ ساتھ کھڑے ہوں گے؟ نواز شریف نے کہا کہ میرے سوا جن سیاستدانوں کے مقدمات ہیں ان پر کرپشن اور کِک بیکس کے الزامات ہیں ، میرا مقدمہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں ایسا کوئی الزام نہیں ۔نواز شریف سے سوال کیا گیا کہ وہ کوئی کتاب لکھیں گے اس پر انہوں نے کہا اپنے تجربات لکھنے چاہئیں ٗ نوازشریف نے کہاکوئی بتائے کہ عمران خان اور آصف زرداری کو سنجرانی ہاؤس کا پتہ کس نے بتایا؟کہا گیا کہ سب سنجرانی ہاؤس پہنچیں ٗوہاں ایک صادق نامی شخص ہے اسے ووٹ دیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر محمود اچکزئی کے بیان کی انکوائری ہونی چاہئے، محمود اچکزئی نے کہا تھا کہ ایک افسر نے بلوچستان حکومت ختم کرائی۔نواز شریف نے اپنی گفتگو کے اختتام پر شعر سنایا’’زندگی اپنی کچھ یوں گزری ہے ٗہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے‘‘۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…