بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

سینٹ الیکشن۔۔ ہارس ٹریڈنگ اور اراکین کی خریدو فروخت حرام قرار چیف الیکشن کمشنر کا نوٹس، بڑا قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)الیکشن کمیشن میں سینٹ الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ اور اراکین کی خریدوفروخت کے معاملے پر دائر درخواست کی سماعت۔ چیف الیکشن کمشنر نے ہارس ٹریڈنگ اور اراکین کی خریدوفروخت کو حرام قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں سینٹ الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ اور اراکین کی خریدو فروخت کے مبینہ معاملے پر دائر درخواست میں چیف الیکشن کمشنر

نے سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ سینٹ الیکشن کے دوران ہارس ٹریڈنگ اور اراکین کی خریدو فروخت حرام ہے ۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد: چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) محمد رضا کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور جو بکتے ہیں وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ سے متعلق خبروں پر لیے جانے والے نوٹس کی سماعت کی۔ الیکشن کمیشن نے ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگانے والے 8 اراکین پارلیمنٹ کو طلب کیا تھا، الیکشن کمیشن کے طلب کیے جانے پر وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب، ایم پی اے عظمیٰ بخاری، امیرمقام ، چوہدری سرور اور دیگر پیش ہوئے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے وکیل شاہد گوندل اور ایم کیو ایم کی جانب سے اقبال قادری پیش ہوئے۔سماعت شروع ہوئی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی پر سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے معاملات آئے اور تحریری طور پر بھی سیاستدانوں کے بیانات ہارس ٹریڈنگ سے متعلق آئے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری مدد کریں۔وکیل عمران خان نے کہا کہ ہم نے اپنی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے، جس کی تحقیقات کے بعد اپنی ایک تحریری درخواست دیں گے۔ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کی جماعت نے دھاندلی پر تحریری دستاویزات جمع کرا دی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری نے سوال کیا کہ ‘کیا الیکشن کمیشن کچھ کر سکتا ہے۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ کی معاونت سے الیکشن کمیشن جو کر سکتا ہے ضرور کرے گا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ووٹ خریدنا اور بیچنا جرم ہے، بدقسمتی سے جو ووٹ خریدتے ہیں اور جو بکتے ہیں وہ دونوں اراکین اسمبلی ہیں۔الیکشن کمیشن نے مختصر سماعت کے بعد

مزید کارروائی 4 اپریل تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگانے والے اراکین اور پارٹی سربراہان سے شواہد طلب کرلیے۔یاد رہے کہ سینیٹ الکیشن کے دوران حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور جماعت اسلامی کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے گئے تھے۔چیف الیکشن کمشنر کے ان ریمارکس کے بعد

سینٹ کے الیکشن پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور حکمران اتحاد اس سے قبل سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی عائد کر چکا ہے جبکہ حاصل بزنجو نے بھی سینٹ میں اپنی تقریر کے دوران سینٹ کو منڈی قرار دیا تھا۔ پی ایس پی کے رہنما رضا ہارون نے آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ایک قبیح فعل ہے اور اگر حاصل بزنجو کے پاس اس حوالے سے ثبوت ہیں تو وہ الیکشن کمیشن کو فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…