جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

محمود اچکزئی کی جان کو خطرہ۔۔اب کس چیز کیلئے تیارہوں؟ میری موت پاکستان پر حملہ ہو گا،جمہوریت کی جنگ میںپہلی لڑائی ہار گئے۔۔ سینئر سیاستدان نے تشویشناک اعلان کر دیا

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آئی این پی ) پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ مجھے مارنے والے مارنا چاہیں تو میں تیار ہوں ،میری موت پاکستان پر حملہ ہوگا،جو جرنیل ‘ بیوروکریٹ اور سیاستدان آئین کی قدر نہیں کرتے ہیںانہیں پاکستان کا دوست نہیں سمجھتا ،سینیٹ الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گی،جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں

یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، دو پارٹیاں جو ایک دوسرے کی مخالف تھیں ان کو نزدیک لانے کے لئے میاں رضا ربانی کی قربانی دی گئی ہے، جب نواز شریف کو نکالا گیا تو میں نے کہا کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی شروع ہوگئی ہے، اس کی پہلی جنگ ہم ہار چکے ہیں۔منگل کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں انتہائی اہم مسئلے پر اپنی آئینی ڈیوٹی پوری کرنے کھڑا ہوا ہوں نہ میں پاگل ہوں نہ میں زندگی سے بیزار ہوں۔ تین قسم کے لوگ آئین کے تحفظ کی قسم کھاتے ہیں‘ فوجی‘ ججز اور پارلیمنٹرینز۔انہوں نے کہا کہ آئین سے کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے جس میں سب اپنی مرضی سے شامل ہوئے ہیں ۔ سینٹ ہائوس آف فیڈریشن ہے اگر اس کے الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو پاکستان کی بنیادیں ہل جائیں گے۔ ہمارے صوبے میں الیکشن ہورہے تھے تو میں نے کہا تھا کہ ایک فوجی افسر مداخلت کررہا ہے وہ لوگوں کو ڈرا رہا ہے۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہے میں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ کمیٹی بنا کر ان الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں میں علط ہوں تو مجھے سزا دیں۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ جس انداز میں سینٹ الیکشن ہوئے ہیں یہ پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ جب نواز شریف کو نکالا گیا تو میں نے کہا کہ

جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی شروع ہوگئی ہے۔ اس کی پہلی جنگ ہم ہار چکے ہیں اگر ووٹ بیچنا جرم نہیں تو صادق اور جعفر کو بھی معاف کردو۔ انہوں نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ جو لوگ آئین کی مخالفت کرے اس کے خلاف بغاوت کی جائے ہمیں مجبور کیا جارہا ہے کہ ہم گلی کوچوں کا رخ اختیار کریں۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ دو پارٹیاں جو ایک دوسرے کی مخالف تھیں ان کو

نزدیک لانے کے لئے میاں رضا ربانی کی قربانی دی گئی ہے میں تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہمارے اتحاد کا وقت ہوگیا ہے جو جرنیل ،بیوروکریٹ اور سیاستدان آئین کی قدر نہیں کرتے ہیںانہیں پاکستان کا دوست نہیں سمجھتا ،دنیا میں کہیں ایسا نہیں کہ ضمیر بیچنے والے کو محب وطن کہا جائے میں نے اپنا ضمیر نہیں بیچا۔ مجھے مارنے والے مجھے مارنا چاہیں تو میں تیار ہوں میری موت پاکستان پر حملہ ہوگا۔ (ن غ/ع ا)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…