جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن کے امیدوار صادق سنجرانی کے چیئرمین سینٹ بننے کے بعد سب سے بڑا سیاسی دھماکہ، سنجرانی چیئرمین سینٹ بننے کے اہل ہی نہیں ہیں کیونکہ۔۔۔! کھلبلی مچ گئی

datetime 12  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے،

نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔ صدرکے لیے آئین میں متعین عمرکی حدکا اطلاق قائم مقام صدر پر بھی ہوتا ہے، اس طرح نومنتخب چیئرمین سینٹ کی عمر قائم مقام صدر بننے کے لیے کم ہے، واضح رہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہلی کے بعدکوئی بھی شخص پارٹی امور کسی دوسرے عہدے سے نہیں چلا سکتا، جس طرح چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے اسی طرح ڈپٹی چیئرمین ، چیئرمین نیب کی عدم موجودگی کے موقع پر چیئرمین ہوتا ہے اور اس کی اہلیت بھی لازمی ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے عہدے پر چیئرمین سینٹ کے قواعد و ضوابط لاگو نہیں ہوتے، قائم مقام صدر پاکستان کا عہدہ ایکس آفیشو ممبر کے طور پر بنایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے، نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…