جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کا طبی معائنہ،رپورٹس سامنے آنے پر کن خطرناک بیماریوں میں مبتلا نکلے،تشویشناک صورتحال

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

پشاور (آن لائن)پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں سرکاری ذرائع کے مطابق کم از کم 45 قیدی ایڈز کے مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق ایڈز کے مریضوں کے علاوہ 60 قیدی ٹی بی کا شکار ہیں جبکہ ہیپاٹائٹس میں مبتلا قیدیوں کی تعداد کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔خیبر پختونخوا میں پہلی مرتبہ قیدیوں کی سکریننگ کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ قیدی کہیں خطرناک بیماریوں کا شکار تو نہیں ہیں۔

سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ ضلع صوابی کی حوالات میں 19 قیدی ایڈز میں مبتلا پائے گئے ہیں جبکہ دیگر جیلوں میں 25 کے لگ بھگ قیدی ایسے ہیں جو اس خطرناک مرض کا شکار ہیں۔صوبے کی تمام جیلوں میں ان دنوں قیدیوں کے مہلک بیماریوں کے حوالے سے معائنے کیے جا رہے ہیں۔انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات شاہداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبے کی جیلوں میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور قیدیوں کی فلاح کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔صوبے کی جیلوں میں گذشتہ ماہ سکریننگ شروع کی گئی تھی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔آئی جی جیل خانہ جات نے بتایا کہ اس وقت صوبے کی جیلوں میں 11 ہزار سے زیادہ قیدی موجود ہیں جن کے معائنے کیے جا رہے ہیں۔قیدیوں کی سکریننگ یا طبی معائنہ اب جیلوں میں مستقل طور پر جاری رہے گا اور اس طریقہ کار سے اب ہر قیدی کو گزرنا پڑے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ جیل میں قیدیوں کی طبی حالت کیا ہے اور انھیں کس جگہ اور کن قیدیوں کے ساتھ رکھنا چاہیے۔آئی جی جیل خانہ جات نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کے حوالے سے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی صوبے میں قیدیوں کے لیے تشخیصی مرکز قائم کیا جا رہا ہے جہاں قیدیوں کو مکمل طبی معائنے سے گزارا جائے گا اور اس میں نفسیاتی معائنہ بھی شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبے میں اس وقت نئی جیلیں تعمیر کی جا رہی ہیں، مردان جیل مکمل ہو چکی ہے جہاں قیدیوں کو لایا گیا ہے، پشاور اور ہنگو جیل بھی تقریباً تیار ہے اور بہت جلد محکمہ جیل خانہ جات کے حوالے کر دی جائے گی۔انھوں نے بتایا کہ اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان، صوابی اور سوات کی جیلوں پر کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…