بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس یہ کام کریں ورنہ عدلیہ کے آزاد ہونے کا دعویٰ نہ کریں ،سپریم کورٹ متنازع ہوچکی ،پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے سپریم کورٹ کو ہی چیلنج کردیا

datetime 24  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر داخلہ، منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا کہ چیف جسٹس کہتے ہیں وہ خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ، اگر وہ واقعی کسی سے نہیں ڈرتے تو آئین توڑنے ،ججز کو قید کرنے ،ججز کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے کے جرم میں پرویز مشرف کو گرفت میں لیں ورنہ پھر عدلیہ کے آزاد ہونے کا دعویٰ نہ کریں ،سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کی وجہ سے متنازع ہوچکی ہے ، تسلسل سے ایک جماعت کے خلاف فیصلے آنا کہیں کوئی سازش تو نہیں ،ملک کی سب سے بڑی جماعت کو سوچے

سمجھے منصوبے کے تحت سینیٹ الیکشن سے باہر کردیا گیا ،میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگا رہا ،صورتحال پر تجزیہ دے رہا ہوں ،پاکستانی قوم سیاست میں پی ایچ ڈی کر چکی ہے ، سب جانتے ہیں یہ اقتصادی مقابلے کا زمانہ ہے ، ہمسائے اور دیگر ممالک تیزی رفتاری سے ترقی کر رہے ہیں ، محاذ آرائی سے پاکستان مستحکم نہیں ہوگا، ججز نے خود کہا پچھلے دور میں ایسے فیصلے کئے جنہیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ججز آزاد ہیں تو وہ جنرل مشرف کا احتساب کریں ، چیف جسٹس کہتے ہیں وہ خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ، پرویز مشرف نے آئین توڑا اور ججز کو قید کیا ، سپریم کورٹ کے ججز کے بچوں کو سکول جانے سے روکا گیا، ججز کو بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پر گھیسٹا گیا ، پرویزمشرف سے کوئی عدالت سوال کیوں نہیں کرتی ، اگر سپریم کورٹ مشرف کو گرفت میں نہیں لے سکتی تو پھر آزادی کیساتھ قانون کی حکمرانی کا دعویٰ نہ کرے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کبھی سبق نہیں سیکھا ۔وزیرداخلہ نے کہا کہ پاکستانی قوم سیاست میں پی ایچ ڈی کر چکی ہے ، سب جانتے یہ اقتصادی مقابلے کا زمانہ ہے ، ہمسائے اور دیگر ممالک تیزرفتاری سے ترقی کر رہے ہیں ، پاکستان کو بھی اقتصادی مقابلے میں آگے لیکر جانا ہے ، محاذ آرائی سے پاکستان مستحکم نہیں ہوگا ،

ججز نے کہا پچھلے دور میں ایسے فیصلے کئے جنہیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں دوسری بار ہم مدت پوری کر رکے الیکشن میں جارہے ہیں ، پارلیمنٹ کی مدت پوری کر کے ہم دنیا میں اپنا سر اونچا کر سکتے ہیں ۔ا حسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کی وجہ سے متنازع ہوچکی ہے ، تسلسل سے ایک جماعت کے خلاف فیصلے آنا کہیں کوئی سازش تو نہیں ہے ، میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا بلکہ صورتحال کا کہہ رہا ہوں ، سپریم کورٹ کا احترام ہم سب کا فرض ہے ۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی دور میں اربوں کھربوں کے سکینڈل سامنے آئے تھے اور آج ان کے تمام سکینڈل ختم ہوگئے ؟

وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ہم نے تاریخ سے کبھی سبق نہیں سیکھا ، سب سے بڑی جماعت کو سینیٹ الیکشن سے نکال دیا گیا ، اصول نظرانداز کر کے نوازشریف کے خلاف فیصلے کئے گئے ، ہم عدالت پر الزام نہیں لگا رہے صرف فیصلوں پر اپنا موقف دے رہے ہیں ، فیصلوں کی سیا ہی نہیں سوکھی تھی کہ ہم نے عمل درآمد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ملک دشمن جاسوس بھی پکڑے ہیں ، ہم شفاف الیکشن کے ذریعے اقتدار منتقل کرنا چاہتے ہیں ،

نوازشریف کی قیادت میں پارٹی متحد ہے ، پارٹی جسے صدارت کیلئے نامزد کرے گی اسے تسلیم کریں گے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد وزیراعظم کا کوئی امیدوار نہیں تھا، نوازشریف نے شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم نامزد کیا تو اس فیصلے پر شاہد خاقان نے بیس منٹ تک بحث کی پھر سب نے ان کو قائل کیا کہ آپ کو جو ذمہ داری دی جا رہی ہے اسے قبول کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارٹی کے فیصلے میڈیا پر نہیں کئے جاتے ۔ (ن م)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…