ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

راؤ انوار کے دفتر کے پیچھے مکان میں کیا ہوتا تھا؟ قریبی ساتھی نے ’’راز‘‘ اگل دیے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے قریبی ساتھ ہیڈ کانسٹیبل علی رضا نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل علی رضا نے بتایا کہ انسپکٹر شعیب کا مبینہ طور پر کام مقابلوں کی جگہ کا انتخاب کرنا، وہاں پر عارضی کھانے پینے کا سامان رکھنے کا انتظام کرنا تھا، اس کے علاوہ مبینہ دہشت گردوں کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے دفتر کے عقب میں واقع ایک مکان میں رکھتے تھے وہاں کا انچارج معطل سب انسپکٹر انار خان تھا،

علی رضا نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ہیڈ کانسٹیبل چوہدی فیصل بھی معاونت کرتا تھا، گرفتار ملزم علی رضا بلوچستان پولیس کا اہلکار ہے جو گزشتہ 10 سال سے کراچی میں ڈیوٹی دے رہا تھا، سابق ایس ایس پی ملیرکے فرار ہونے کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ہیڈ کانسٹیبل علی رضا نے تفتیش کے دوران انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس سیل میں وہی مبینہ ملزم جاتا تھا جس کو بلیک قرار دیا جا چکا ہوتا ہے اور جس مبینہ ملزم کو سفید قرار دیا جائے اس کا مطلب اسے رہا کر دو، اس نے تفتیشی افسران کو بتایا کہ اکثر و بیشتر پولیس مقابلے سپر ہائی وے اور اس کے اطراف میں ہوتے تھے جس کے لیے جگہ کا انتخاب مبینہ طور پر انسپکٹر شیعب شیخ کرتا تھا، 13 جنوری کے مقابلے کی جگہ کا تعین سابق ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن امان اللہ مروت نے اپنے علاقے میں کروایا تھا اور چاروں ملزمان کو بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر چوہدری عامر اپنے جوانوں کے ساتھ جائے وقوع پر لائے تھے۔ راؤ انوار کے ساتھی ملزم ہیڈ کانسٹیل علی رضا نے تفتیش میں مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئٹہ پولیس کا بھرتی ہے اور سابق ایس ایس پی راؤ انوار جب 2001 میں کوئٹہ میں تعینات ہو کر آئے تھے تو وہ اس وقت ان کے ساتھ سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوا اور ان کی خدمت کرتا رہا، علی رضا نے بتایا کہ جب راؤ انوار کی دوبارہ کراچی میں ٹرانسفر ہوئی تو وہ مجھے بھی اپنے ساتھ کراچی لے آئے،

جس کے بعد وہ ان کے ساتھ کام کرنے لگا، علی رضا نے بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر کے تمام کاموں کی جس میں جائز اور ناجائز دونوں شامل ہیں ان کی دیکھ بھال کرتا تھا، گرفتار ملزم علی رضا نے تفتیشی افسران کو مزید بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی کراچی سمیت پورے پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ہے، علی رضا نے بتایا کہ سابق ایس ایس پی ملیر کی پوری فیملی بیرون ملک رہائش پذیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…