ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

شیخ رشید نے شاہد خاقان عباسی کا مناظرے کا چیلنج قبول کر لیا، کسی بھی چینل پر آ جاؤ، اگر میں ثابت نہ کر سکوں تو۔۔۔! بڑا اعلان کر دیا

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح دنیا کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، یہ کہہ رہے ہیں کہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ کنٹریکٹ ہے ایک کمپنی کے ذریعے ، شیخ رشید احمد نے کہا کہ سیف الرحمان یہاں پر ڈیفالٹر ہے وہ اس کمپنی کا ایجنٹ ہے،

شیخ رشید احمد نے کہا کہ کس طرح جو گیس ضائع ہوتی ہے اور کس طرح دس ارب سالانہ غریب آدمی کے بجٹ میں ڈالتے ہیں، کس طرح انہوں نے حسین داؤد کو ٹرمینل دیا ہے، اپنا ٹرمینل استعمال نہیں کیا اور تین کروڑ روپے روزانہ کی بنیاد پر 2013 سے دے رہے ہیں، شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہم نے اس کے ثبوت دیے ہیں، شیخ رشید احمد نے کہا کہ پی ایس او کے پاس تو گیس امپورٹ کرنے کا لائسنس ہی نہیں ہے، یہ لائسنس تو سوئی سدرن گیس کے پاس ہے لیکن انہوں نے یہ ساری بے ایمانیاں مل کر کی ہیں، دو سو ارب روپے کی سالانہ کرپشن کا پندرہ سال کا کنٹریکٹ کیا ہے، انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے ایک چینل پر کہا کہ میں شیخ رشید سے مناظرہ کرنے کے لیے تیار ہوں، انہوں نے کہاکہ کسی بھی چینل پر آئیں میں اس مناظرے کے لیے تیار ہوں، اگر یہ ثابت نہ کر سکوں کہ آپ نے سارا کام فراڈ سے کیا ہے تو یا میں سیاست چھوڑ دوں یا پھر آپ سیاست چھوڑ دیں میں اس کا آپ کو چیلنج کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ایک بات جو میں نے آج تک نہیں کی کہ یہ سیفٹی کے بھی خلاف ہے کہ ان کا جو ٹرمینل ہے وہ کمرشل آئٹمز کو ڈیل کرتا ہے وہاں کوئی حادثہ بھی ہو سکتا ہے، کیمیکل زونز میں یہ تمام کام کر رہے ہیں اور تمام سیفٹی رولز کے خلاف یہ کام کرتے ہوئے 2013-14 سے انہوں نے فراڈ کیا، انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سپریم کورٹ کے آرڈر ہیں جس میں نیب سے کہا گیا ہے کہ تفتیش کرکے رپورٹ پیش کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…