ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’تجربہ کار فاسٹ باؤلر کے ہاتھ میں پرانی گیند زیادہ سوئنگ ہوتی ہے‘‘مبشر زیدی نے یہ سب کچھ کہا تو پی ٹی آئی والے آگ بگولہ ہوگئے ،غصے میں آکر ایسی تصاویر اپ لوڈ کردیں کہ معروف صحافی نے گھٹنے ٹیک دئیے ،فوراً معافی مانگ لی

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان کی بشریٰ مانیکا سے تیسری شادی  پر ملے جلے ردعمل کا اظہار سامنے آیا۔ایک طرف تحریک انصاف کے کارکنان نے خوشی کے مارے اپنے کپتان کو شادی کی مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع کر دیا تو دوسری جانب  مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی جانب سے اس بارے میں مزاحیہ باتیں کئے جانے اور تصاویر شیئر کرنے کا سلسلہ چل نکلا۔ایسے میں معروف شخصیات اور صحافی بھی پیچھے نہ رہے مگراب معروف صحافی مبشر زیدی کو تبصرہ کرنا مہنگا پڑ گیا ہے جن کی ایک بات پر تحریک انصاف کے کارکنان سیخ پا ہو گئے۔انہوں نے مبشر زیدی کے خاندان والوں کی ایسی تصاویر اپ لوڈ کر دیں کہ دیکھنے والے کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور مبشر زیدی معافی مانگنے اور عمران خان سے یہ تصاویر ڈیلیٹ کروانے کا کہنے پر مجبور ہو گئے۔مبشر زیدی نے عمران خان کی تیسری شادی پر اپنے مخصوص انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ایک ٹویٹ میں لکھا ”تجربہ کار فاسٹ باﺅلر کے ہاتھ میں پرانی گیند زیادہ سوئنگ ہوتی ہے“

انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ”کیا اس پارٹی میں ساری شادیاں ایک ہی بندہ کرے گا؟“

ایک اور ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ”اصلی پیر تو عمر چیمہ ثابت ہوا، نہیں؟“

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اگلی ٹویٹ میں انہوں نے کہا ”عمران خان کی یہ بات قابل تعریف ہے کہ ریٹائرمنٹ واپس لے کر بار بار میدان میں اتر جاتے ہیں“

ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے نواز شریف اور عمران خان کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ”میاں صاحب کے اثاثے اور خان صاحب کی شادیاں منظرعام پر لانے میں بڑا ٹائم لگتا ہے، دونوں کا کریڈٹ عمر چیمہ کو ہی جاتا ہے“

اگلی ٹویٹ میں انہوں نے آئندہ انتخابات سے متعلق پیش گوئی کی اور لکھا ”آئندہ عام انتخابات میں عمران خان کے بیلٹ بکسوں سے ووٹوں کے بجائے تعویذ نکلیں گے“

بعد ازاں انہوں نے ایک اور ٹویٹ کی اور لکھا ”ہم سب کو انسان بننا چاہئے۔ اس کے بعد ہم سب مسلمان بن سکتے ہیں۔ لیکن ہم پہلے مسلمان بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی کوئی انسان بن پاتا ہے۔“

یہ ٹویٹس منظرعام پر آنے کے بعد ان کے مداحوں نے تو پسندیدگی کا اظہار کیا مگر تحریک انصاف کارکنان نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور مبشر زیدی کے خاندان والوں کی تصاویر غلیظ اور گھٹیا لائنوں کے ساتھ شیئر کروانا شروع کر دیں جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہونے لگیں۔

یہ تصاویر سامنے آنے پر مبشر زیدی ناصرف اپنی ٹویٹس ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ہو گئے بلکہ انہوں نے عمران خان سے معافی مانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جو تصاویر شیئر کروائی جا رہی ہیں ان میں ایک دوست کی بیٹی بھی شامل ہے۔مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے دوست کے سامنے شرمندہ ہوا ہوں، عمران خان برائے مہربانی اپنے چاہنے والوں سے کہہ کر یہ تصاویر ڈیلیٹ کروا دیں۔

مبشر زیدی نے لکھا ” میں عمران خان سے معذرت طلب کرتا ہوں جن کی سیاست پر تنقید کرنا شائد غلط نہیں لیکن میں کئی نامناسب ٹوئیٹس کر بیٹھا۔ میں نے کچھ ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دئیے ہیں اور مزید ڈیلیٹ کر رہا ہوں۔ بہرحال مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ امید ہے کہ وہ معاف کر دیں گے“

انہوں نے اگلی ٹویٹ میں اپنے خاندان کی شیئر ہونے والی تصویر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ”عمران خان صاحب! آپ کے چاہنے والوں نے گالیوں کیساتھ میرے اہل خانہ کی جو تصویر ٹوئٹ کی، اس میں ایک دوست کی بیٹی بھی تھی۔ میں نے ٹرولز کی گالیاں برداشت کی تھیں۔ لیکن دوست کے سامنے اور بیٹیوں کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا۔ افسوس صد افسوس!“

اس کیساتھ ہی انہوں نے نئی زندگی اور آئندہ انتخابات کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…