ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

شہبازشریف کے سپریم کورٹ پہنچنے کے موقع پر رانا ثنا ء اللہ نے ایسا بیان داغ دیا کہ ہر طرف ہلچل مچ گئی،اب کیا ہوگا

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی)صوبائی وزیرقانون رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں کسی بھی معاشرے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا سب سے پہلے ضروری ہے اور اس کے بعد صاف پانی اور باقی چیزوں کی ترجیح آتی ہے ،نیب کی جانب سے پنجاب کی چار کمپنیوں کے ٹرائل کے مرحلے میں ہونے کے باوجود ریکارڈ مانگنے کا معاملہ عدالت میں جا سکتا ہے اور پھر وہیں سے فیصلہ ہو سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ لاہور

رجسٹری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ حکومت نے ہر عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا ہے اور جہاں تک کسی فیصلے سے اختلاف یا اس پر رائے دینے کی بات ہے تو یہ عدلیہ کے احترام یا عزت میں کمی کے مترادف نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی بہت ضروری ہے لیکن انصاف کی فراہمی بھی بہت ضروری ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ صاف پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور قوم کو انصاف کی فراہمی کا بھی اتنا ہی خیال رکھا جائے گا ۔ چیف جسٹس کی قیادت اور رہنمائی میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر کسی کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے لیکن میر اخیال ہے کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا سب سے پہلے ضروری ہے اور اس کے بعد صاف پانی کی فراہمی اور باقی چیزوں کی ترجیح آتی ہے ۔انصاف کی فراہمی معاشرے کی بنیاد جبکہ صاف پانی انسانی صحت کی بنیاد ہے ۔ فاضل عدالت کی جانب سے جس کمی کوتاہی کی نشاندہی کی جائے گی حکومت اسے دور کرے گی ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بعض ایسے عناصر موجود ہیں جو ریمارکس اور فیصلوں کو اپنے گھٹیا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بھی

فیصلے یا پروسیڈنگ کو ایک فریق مخالف فریق کے خلاف پوائنٹ سکورننگ یا اپنے پولیٹیکل ایجنڈے کیلئے استعمال کرے ۔ انہوںنے نیب ترجمان کے اس بیان کہ پنجاب کی چار کمپنیوں کی اینٹی کرپشن میں چلنے والی تحقیقات کو نیب لے سکتا ہے کا جواب دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ یہ قانون کی تشریح کی بات ہے ۔ جو کیس تفتیش کے بعد ٹرائل کے مراحل میں ہو اسے نئے سرے کسی دوسرے ادارے کو دینے سے ملزمان کو فائدہ پہنچے گا اور ایسا قانونی طو ر پر نہیں ہو سکتا ۔ پھر یہ معاملہ کورٹ میں جا سکتا ہے اور وہاں سے ہی فیصلہ ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…