ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا تے ہوئے کہا ہے کہ ،آئی جی پنجاب پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کے شکر گزار ہیں، ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق 7 روز میں فیصلہ کیا جائے۔ ہفتہ کو چیف جسٹس پاکستان نے زینب قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا ہے ۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ایک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ زینب قتل کیس

میں ملزم کو پکڑنے پر انسپکٹر جنرل( آئی جی)پنجاب پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان کے شکر گزار ہیں۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق 7 روز میں فیصلہ کیا جائے۔ یاد رہے پنجاب کے ضلع قصور سے اغوا کی جانے والی 7 سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا، جس کی لاش گذشتہ ماہ 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی ۔زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا اور 21 جنوری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہونے والی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس میں پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔جس کے بعد 23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعوی کیا، جس کی تصدیق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔ملزم عمران ان دنوں پولیس کی تحویل میں ہے اور اس کے خلاف ٹرائل جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…