ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

میں نے مشال خان کو اس لیے مارا کیونکہ وہ اپنے کمرے میں یہ کام کرتا تھا، قتل کیس میں بری ہونے والے ملزم کا اعتراف، قتل کے اقدام میں حصہ لینے کی حیرت انگیز وجہ بتا دی

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گزشتہ روز مشال قتل کیس کا فیصلہ سنایا، اس فیصلے کے تحت ایک کو سزائے موت، پانچ کو عمر قید اور پچیس کو پانچ پانچ سال قید جبکہ دیگر 26 ملزمان کو عدالت کی طرف سے بری کر دیا گیا، بری ہونے والے ایک ملزم کا اعترافی بیان سامنے آیا ہے، عدالت کی طرف سے بری ہونے والے یونیورسٹی میں ڈرائیور حضرت بلال ولد محبت خان نے

جوڈیشل مجسٹریٹ محیب الرحمان کی عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ بھی ہجوم میں شامل ہوگیا تھا کیونکہ ہاسٹل میں مشال خان اپنے کمرے میں کتے کو چومتا تھا، اس نے بتایا کہ گزشتہ سال 13 اپریل کو میں کنٹرولر ایگزامینیشن کی بیٹی کو چھوڑنے کے بعد واپس آیا، واپس آنے کے بعد کھانا کھانے کے لیے کینٹین چلا گیا، اسی دوران میں نے دیکھا کہ اچانک طلبا اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے ہاسٹل نمبر ایک کی طرف بھاگ رہے ہیں، اس نے کہا کہ میں بھی وہاں پہنچ گیا اور طلبا کی جانب سے مشال خان کے متنازع نظریات کے بارے میں سن کر غصے میں آ گیا۔ یونیورسٹی کے 39 سالہ ڈرائیور بلال نے کہا کہ وہاں پولیس بھی موجود تھی اور اس نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو ساری صورتحال کا علم ہے، بلال نے کہا کہ میں بحیثیت مسلمان غصے میں آ گیا اور مشال خان کو تین تھپڑ مارے، اس نے بتایا کہ مشال ابھی زندہ تھا اور حنیف اسے لکڑی سے مار رہا تھا، اس نے کہا کہ حنیف عدالت میں بھی موجود ہے، بلال نے کہا کہ مشال نے اپنی غیر اسلامی اور غیر اخلاقی حرکتوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اشتعال دلایا تھا، بلال نے بتایا کہ وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں کتے کو بھی چوم لیتا تھا، اس موقع پر عدالت کو بلال نے بتایا کہ میری مشال خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ محیب الرحمان کی عدالت میں اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ بھی ہجوم میں شامل ہوگیا تھا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…