بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کا لفظ سیاست میں پہلی بار کب متعارف ہوا؟کس کے ووٹ بکتے ہیں اور خریدار کون ہوتاہے؟جو سینٹ اپنے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کر سکے وہ ملک کے ساتھ کیا کرے گی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

آج سے ایک سو سال پہلے تک گھوڑا سب سے بڑا اثاثہ ہوتا تھا‘ جس کے پاس جتنے زیادہ‘ جتنے مضبوط اور جتنے ٹرینڈ گھوڑے ہوتے تھے وہ شخص اتنا ہی بڑا‘ اتنا ہی رئیس ہوتا تھا‘ فوجیں بھی گھوڑوں اور جوانوں کی تعداد سے چھوٹی اور بڑی سمجھی جاتی تھیں چنانچہ اس دور میں گھوڑوں کی تجارت سب سے بڑی تجارت سمجھی جاتی تھی‘ گھوڑوں کے تاجر زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کیلئے گھوڑوں کی جھوٹی تعریفیں کرتے تھے‘

اب دنیا میں گھوڑے کو جانچنے کا بظاہر کوئی طریقہ موجود نہیں‘ گھوڑے کو جس طرف سے دیکھیں گھوڑا گھوڑا ہی دکھائی دیتا ہے‘ لوگ جھوٹی تعریفیں سن کر گھوڑا لے جاتے تھے اور جب سواری کرتے تھے تو وہ گھوڑا خالص نسل کا نہیں نکلتا تھا‘ دھوکے بازی کے اس عمل کو اس زمانے میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا تھا‘ یہ لفظ سیاست میں سب سے پہلے 1893ء میں نیویارک ٹائمز نے متعارف کرایا‘ کانگریس نے اخباری اشتہارات میں جعلی دعوؤں پر ایک قانون بنایا‘ نیویارک ٹائمز نے اس پر یہ تبصرہ کیا ’’اگر جھوٹ پر پابندی لگ گئی تو ملک میں ہارس ٹریڈنگ بھی ختم کرنا پڑے گی‘‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے جب بھی کوئی پارٹی کسی دوسری جماعت کے رکن کا ووٹ خریدیتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ کا نام دیا جاتا ہے اور پاکستان بدقسمتی سے اس تجارت میں دنیا کے تمام ممالک سے آگے ہے‘ سینٹ ملک کا ایوان بالا اور مقدس ترین ایوان ہے لیکن یہ ایوان ہر بار بدترین ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہوتا ہے‘ آج سینٹ کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری دن تھا‘ آپ آج کے اعتراضات ملاحظہ کیجئے، سینٹ میں چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی حاصل ہے‘ ارکان کی کل تعداد 104 ہے‘ تمام صوبے تئیس تئیس ارکان منتخب کرتے ہیں‘ ان میں 14 جنرل‘ چار ٹیکنو کریٹس‘ چار خواتین اور ایک اقلیتی رکن شامل ہوتا ہے جبکہ چار وفاق اور 8 سینیٹرز صوبوں سے آتے ہیں‘ سینیٹر چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں‘ ہر تین سال بعد آدھے ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ہر تین سال بعد ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی لگتا ہے‘

آپ دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘ تمام پارٹیاں ووٹ خریدتی ہیں‘ تمام پارٹیوں کے ووٹ بکتے ہیں اور تمام پارٹیاں ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی لگاتی ہیں‘ ایسا کیوں ہے اور جو سینٹ اپنے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کر سکے‘ جو اپنے ایوان میں ہارس ٹریڈنگ نہ روک سکے‘ جو اپنے لئے قانون نہ بنا سکے وہ ملک کیلئے کیا قانون سازی کرے گا‘ وہ ملک میں کیا بے ایمانی روکے گا اور وہ ملک کے تقدس کی کتنی حفاظت کرے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…