ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’ہارس ٹریڈنگ‘‘ کا لفظ سیاست میں پہلی بار کب متعارف ہوا؟کس کے ووٹ بکتے ہیں اور خریدار کون ہوتاہے؟جو سینٹ اپنے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کر سکے وہ ملک کے ساتھ کیا کرے گی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

آج سے ایک سو سال پہلے تک گھوڑا سب سے بڑا اثاثہ ہوتا تھا‘ جس کے پاس جتنے زیادہ‘ جتنے مضبوط اور جتنے ٹرینڈ گھوڑے ہوتے تھے وہ شخص اتنا ہی بڑا‘ اتنا ہی رئیس ہوتا تھا‘ فوجیں بھی گھوڑوں اور جوانوں کی تعداد سے چھوٹی اور بڑی سمجھی جاتی تھیں چنانچہ اس دور میں گھوڑوں کی تجارت سب سے بڑی تجارت سمجھی جاتی تھی‘ گھوڑوں کے تاجر زیادہ سے زیادہ قیمت حاصل کرنے کیلئے گھوڑوں کی جھوٹی تعریفیں کرتے تھے‘

اب دنیا میں گھوڑے کو جانچنے کا بظاہر کوئی طریقہ موجود نہیں‘ گھوڑے کو جس طرف سے دیکھیں گھوڑا گھوڑا ہی دکھائی دیتا ہے‘ لوگ جھوٹی تعریفیں سن کر گھوڑا لے جاتے تھے اور جب سواری کرتے تھے تو وہ گھوڑا خالص نسل کا نہیں نکلتا تھا‘ دھوکے بازی کے اس عمل کو اس زمانے میں ہارس ٹریڈنگ کہا جاتا تھا‘ یہ لفظ سیاست میں سب سے پہلے 1893ء میں نیویارک ٹائمز نے متعارف کرایا‘ کانگریس نے اخباری اشتہارات میں جعلی دعوؤں پر ایک قانون بنایا‘ نیویارک ٹائمز نے اس پر یہ تبصرہ کیا ’’اگر جھوٹ پر پابندی لگ گئی تو ملک میں ہارس ٹریڈنگ بھی ختم کرنا پڑے گی‘‘ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے جب بھی کوئی پارٹی کسی دوسری جماعت کے رکن کا ووٹ خریدیتی ہے تو اسے ہارس ٹریڈنگ کا نام دیا جاتا ہے اور پاکستان بدقسمتی سے اس تجارت میں دنیا کے تمام ممالک سے آگے ہے‘ سینٹ ملک کا ایوان بالا اور مقدس ترین ایوان ہے لیکن یہ ایوان ہر بار بدترین ہارس ٹریڈنگ کا شکار ہوتا ہے‘ آج سینٹ کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آخری دن تھا‘ آپ آج کے اعتراضات ملاحظہ کیجئے، سینٹ میں چاروں صوبوں کو برابر نمائندگی حاصل ہے‘ ارکان کی کل تعداد 104 ہے‘ تمام صوبے تئیس تئیس ارکان منتخب کرتے ہیں‘ ان میں 14 جنرل‘ چار ٹیکنو کریٹس‘ چار خواتین اور ایک اقلیتی رکن شامل ہوتا ہے جبکہ چار وفاق اور 8 سینیٹرز صوبوں سے آتے ہیں‘ سینیٹر چھ سال کیلئے منتخب ہوتے ہیں‘ ہر تین سال بعد آدھے ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ہر تین سال بعد ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی لگتا ہے‘

آپ دلچسپ صورتحال ملاحظہ کیجئے‘ تمام پارٹیاں ووٹ خریدتی ہیں‘ تمام پارٹیوں کے ووٹ بکتے ہیں اور تمام پارٹیاں ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی لگاتی ہیں‘ ایسا کیوں ہے اور جو سینٹ اپنے ووٹ کے تقدس کی حفاظت نہ کر سکے‘ جو اپنے ایوان میں ہارس ٹریڈنگ نہ روک سکے‘ جو اپنے لئے قانون نہ بنا سکے وہ ملک کیلئے کیا قانون سازی کرے گا‘ وہ ملک میں کیا بے ایمانی روکے گا اور وہ ملک کے تقدس کی کتنی حفاظت کرے گا‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…