ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

راؤ انوار کو اب تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟راؤ انوار کے پاس ایسے کون سے راز ہیں جن کے سامنے آنے سے کئی سیاسی پارٹیاں صفحہ ہستی سے مٹ سکتی ہیں؟ سینئر کالم نگار کا تجزیہ

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) معروف کالم نگار ڈاکٹر لال خا ن نے اپنے کالم میں نقیب اللہ محسود کے قتل اور راؤ انوار کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ نقیب اللہ محسود جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا گیا کوئی پہلا معصوم نہیں تھا، نہ ہی اس استحصالی اور وحشیانہ نظام میں آخری ہو گا‘ لیکن نقیب اللہ کا وحشیانہ قتل‘ ریاست اور سیاست کے آقاؤں کو بھاری پڑ گیا ہے۔ اس کے مبینہ قاتل راؤ انوار کو نہ صرف ایف آئی اے نے اسلام آباد ائیر پورٹ پر باہر جانے سے روک کر پھر اندر کہیں غائب ہو جانے دیا‘

بلکہ اتنے دن گزر جانے کے باوجود وہ میڈیا سے رابطے بھی کر رہا ہے، اپنے بیانات بھی دے رہا ہے لیکن اس ملک کے تمام صوبوں کی پولیس اور ریاست کی بڑی مہارت اور شہرت رکھنے والی ایجنسیاں اس کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ یہ ریاست ایک ایسے قاتل کو گرفتار نہیں کر پا رہی ہے جس کی گرفتاری کے لئے خود حکمران بھی شور مچانے کا ناٹک کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں‘ اور میڈیا کا واویلا بھی جاری ہے۔ نظام عدل بھی یہاں بے بسی کا تماشا محسوس ہوتا ہے۔ گرفتاری کے اہداف کے دن بڑھانے اور پولیس کو احکامات دینے کے علاوہ کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میڈیا سے لے کر سیاستدانوں تک سب ان شخصیات کو بے نقاب کرنے سے گریزاں ہیں‘ جو راؤ انوار سے یہ وارداتیں کرواتی رہی ہیں۔ جائیدادوں کے یہ دولت مند بیوپاری اتنے طاقتور ہیں کہ اس معاشرے میں کسی کا بھی منہ بند کروا سکتے ہیں۔ اگر وہ خاموش نہ ہو تو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ معروف کالم نگار نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ راؤ انوار والا یہ تمام تر قصہ کسی مافیا فلم سے کم ہولناک نہیں ہے۔ میرے خیال میں وہ اسی لئے ابھی تک ہاتھ نہیں آیا ہے کہ اس کے پاس بڑے بڑوں کے مکروہ جرائم کے ایسے ثبوت ہیں جو اگر کھلے تو بات بڑی دور تک جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ راؤ انوار گرفتاری پیش کر دیتا اور پھر جیسا کہ اس ملک میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے

کہ کورٹ کچہریوں کی تاریخوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے میں اس کے جرائم گم ہو جاتے اور معاملہ ٹھنڈا ہوتے ہی وہ کسی دور دراز جزیرے پر باقی عمر عیاشی کرتا‘ لیکن اہل اقتدار میں پھوٹ اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ شاید ایک دھڑا دوسرے کو نہیں بخشے گا۔ یہ بھی اندیشہ ہے کہ خود راؤ انوار کو ہی ٹھکانے لگا کر راستے سے ہٹا دیا جائے۔ لیکن ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اُس نے تمام تر بیانات اور ثبوت کہیں محفوظ کر دئیے ہوں جو اس کے مرنے کی صورت میں منظر عام پر آ جائیں اور اسے مروانے والے

اور بڑی مصیبت میں پھنس جائیں، کئی موروثی سیاستیں فنا ہو جائیں اور کئی پارٹیاں بکھر کر ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں۔ میری نظر میں میڈیا کا ایک حصہ تو اِس ایشو کو کئی دوسرے ایشوز کی طرح اچھال کر پھر غائب کرنے کے چکر میں تھا۔ لیکن حکمرانوں کے لئے جو اصل مصیبت کھڑی ہو گئی‘ وہ وزیرستان کے قبائل اور دوسرے علاقوں کے پشتون

اور غیر پشتون مظلوموں کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور دھرنا ہے۔ پہلے پہل اِس کا مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا‘ لیکن پھر مجبوراً کوریج دینا پڑی۔ شاید ا س دھرنے کو منظم اور متحرک کرنے والے ایسے کارکنان ہیں جو اِن مقتدر قوتوں کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور نیچے سے عام لوگوں کا غم و غصہ اتنا شدید ہے کہ ماضی کے طرح دھرنے بٹھانا اور اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…