ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پانامہ کے بعد دبئی لیکس ،پاکستانیوں نے دبئی میں کتنے سو ارب کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں،ہوش اڑا دینے والے انکشافات

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

دبئی /اسلام آباد(این این آئی) سات ہزار سے زیادہ پاکستانیوں کے دبئی میں 11 سو ارب روپے سے زیادہ کی جائیدادیں بنانے کا انکشا ف ہوا ہے جن میں سے 95 فی صد افراد نے پاکستان میں اپنے ٹیکس گوشواروں میں کچھ نہیں بتایا۔دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور اسٹیٹ بینک کے پاس اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں کہ یہ پیسہ پاکستان سے دبئی کیسے گیا۔میڈیارپورٹس اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ دبئی میں جائیدادیں بنانے والوں

میں سیاست دان، اداکار، وکلا، ڈاکٹر، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات اور بینکر بھی شامل ہیں۔ گذشتہ کچھ سالوں میں 11 سو ارب روپے سے زائد رقم خاموشی سے پاکستان سے دبئی منتقل کردی گئی جبکہ متعلقہ اداروں کے علم میں لائے بغیر پیسوں کی منتقلی غیر قانونی اور مشکوک ہے۔رپورٹ کے مطابق تقریباً 7 ہزار پاکستانیوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دبئی میں جائیدادیں خریدیں، جن میں سیاست دان، اداکار، وکلا، ڈاکٹرز، بیوروکریٹس، کاروباری حضرات اور بینکرز کے علاوہ چند میڈیا مالکان، ریٹائرڈ جرنیلز اور ریٹائرڈ ججز بھی شامل ہیں۔تحقیقات کے مطابق اس مجموعی تعداد میں سے تقریباََ 780 پاکستانی دہری شہریت رکھتے ہیں یا پھر وہ پاکستان سے باہر مقیم ہیں جبکہ باقی 6 ہزار سے زائد پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق پاکستانیوں نے تقریباََ 967 ولاز یا رہائشی عمارتیں گرینز کے علاقے میں خریدیں، پاکستانیوں کے 75 قیمتی ترین فلیٹس ایمریٹس ہلز، 165 جائیدادیں ڈسکوری گارڈنز میں، 167 فلیٹس جمیرا آئی لینڈ، 123 گھر جمیرا پارک، 245 فلیٹس جمیرا ولیج، 10 جائیدادیں پام ڈیرا، 160 پام جبل علی، 25 جائیدادیں پام جمیرا شور لائن، 234 جائیدادیں انٹرنیشنل سٹی اور 230جائیدادیں سلیکون ویلی میں ہیں۔دستاویزات کے مطابق دبئی کی ان جائیدادوں کی مالیت کم از کم 10 لاکھ درہم سے شروع ہوکر ڈیڑھ کروڑ درہم تک ہیں، جن کی مالیت 3 کروڑ پاکستانی روپے سے لے کر 45 کروڑ روپے تک بنتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…