ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

فاٹا کے انضمام کیلئے راؤ انوار کا گرفتار ہونا ضروری ہے،نقیب محسود کے قتل کیخلاف قبائلیوں کا گرینڈ جرگہ ،بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی)کراچی میں ماروائے عدالت قتل ہونے والے نوجوان نقیب محسود کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے قبائلیوں کا احتجاجی دھرنے آج آٹھواں روز۔پیر کو احتجاجی دھرنا کے شرکاء اور غمزدہ خاندانون سے اظہار یکجہتی کیلئے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیر پاؤ ،پاکستان پیپلز پارٹی و سابق چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری کے بھائی سید صفدر حسین بخاری اور عامر فدا پراچہ، سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی

، تحریک انصاف کے رہنما ایڈوکیٹ سید اسرار شاہ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ کراچی کوپختونوں نے اپنے خون اور پسینے سے آباد کیا لیکن اس کاصلہ ان کو غائب کر کے دیا،نقیب محسود کی شہادت نے پختونوں کو متحد کردیا ہے،قبائلیوں اور پختونوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دینے کا عمل اب ترک کرنا ہوگا،ہزاروں نوجوانوں کو ماروائے عدالت قتل کیا گیا، نقیب کا خون ضرور رنگ لائے گا،راؤ انوار اور اس کی ٹیمی کی گرفتاری اور سرعام پھانسی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا،پختون غیور اور محب وطن پاکستانی ہے، ان کی حب الوطنی پر شک نہ کیا جائے۔ سابق وفاقی وزیرحمید اللہ جان آفریدی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نقیب کے قاتلوں کی عدم گرفتاری عدالتی نظام کی ناکامی ہے،پختون آئین کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتے،فاٹا کے انضمام کیلئے راؤ انوار کا گرفتار ہونا ضروری ہے،مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے، اس موقع پر صفدر حسین شاہ ودیگر قبائلی عمائدین نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…