جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

قصور، پولیس نے پہلے مدثر کی ہڈیاں توڑیں اور پھر ایمان فاطمہ سے زیادتی کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کر ڈالا، بے قصور ملزم کے مرنے کے بعد اس کے جنازے میں کیا ہوا اور اس کی بہنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سینئر صحافی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ جب ایمان فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا اس وقت قصور پولیس نے ایک انیس سالہ نوجوان مدثر کو پکڑ لیا جس کا تین ماہ کا بیٹا تھا، ایمان فاطمہ سے زیادتی کے کیس میں مدثر کو

ساری رات پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں یہاں تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ ڈالی گئی اس تشدد سے مدثر مر گیا، اس موقع پر پولیس نے پولیس مقابلہ ظاہر کرنے کے لیے مدثر کو گولیاں ماریں اور باہر آ کر اعلان کیا کہ ملزم نے اقرار کر لیا تھا کہ اس نے ایمان فاطمہ سے زیادتی کی ہے۔ اس علاقے میں انہوں نے اب عمران پکڑ لیا ہے۔ لوگ مدثر کو معصوم ایمان فاطمہ کا قاتل سمجھ رہے تھے لوگوں کا خیال تھا کہ مدثر نے ہی اس معصوم بچی سے زیادتی کی ہے اور پھر قتل کر دیا، اسی وجہ سے لوگوں نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی، لوگوں نے مدثر کے گھر والوں کا سامان گھر سے باہر پھینک دیااور کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ تمہارے بیٹے نے ایسی غلط حرکت کی ہے، مدثر کے خاندان کی اتنی بدنامی ہوئی کہ اس کی بہنوں کے رشتے ہی ٹوٹ گئے، مدثر کا خاندان دربدر ہو گیا۔ قصور پولیس نے ایک انیس سالہ نوجوان مدثر کو پکڑ لیا جس کا تین ماہ کا بیٹا تھا، ایمان فاطمہ سے زیادتی کے کیس میں مدثر کو ساری رات پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں یہاں تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ ڈالی گئی اس تشدد سے مدثر مر گیا

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…