ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور، پولیس نے پہلے مدثر کی ہڈیاں توڑیں اور پھر ایمان فاطمہ سے زیادتی کا جھوٹا الزام لگا کر قتل کر ڈالا، بے قصور ملزم کے مرنے کے بعد اس کے جنازے میں کیا ہوا اور اس کی بہنوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک سینئر صحافی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ جب ایمان فاطمہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا اس وقت قصور پولیس نے ایک انیس سالہ نوجوان مدثر کو پکڑ لیا جس کا تین ماہ کا بیٹا تھا، ایمان فاطمہ سے زیادتی کے کیس میں مدثر کو

ساری رات پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں یہاں تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ ڈالی گئی اس تشدد سے مدثر مر گیا، اس موقع پر پولیس نے پولیس مقابلہ ظاہر کرنے کے لیے مدثر کو گولیاں ماریں اور باہر آ کر اعلان کیا کہ ملزم نے اقرار کر لیا تھا کہ اس نے ایمان فاطمہ سے زیادتی کی ہے۔ اس علاقے میں انہوں نے اب عمران پکڑ لیا ہے۔ لوگ مدثر کو معصوم ایمان فاطمہ کا قاتل سمجھ رہے تھے لوگوں کا خیال تھا کہ مدثر نے ہی اس معصوم بچی سے زیادتی کی ہے اور پھر قتل کر دیا، اسی وجہ سے لوگوں نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی، لوگوں نے مدثر کے گھر والوں کا سامان گھر سے باہر پھینک دیااور کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ تمہارے بیٹے نے ایسی غلط حرکت کی ہے، مدثر کے خاندان کی اتنی بدنامی ہوئی کہ اس کی بہنوں کے رشتے ہی ٹوٹ گئے، مدثر کا خاندان دربدر ہو گیا۔ قصور پولیس نے ایک انیس سالہ نوجوان مدثر کو پکڑ لیا جس کا تین ماہ کا بیٹا تھا، ایمان فاطمہ سے زیادتی کے کیس میں مدثر کو ساری رات پولیس نے اتنا مارا کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں یہاں تک کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بھی توڑ ڈالی گئی اس تشدد سے مدثر مر گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…