اتوار‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2025 

ڈاکٹر شاہد مسعود کے زینب قتل کیس میں انکشافات ،کوئی مخالفت اور کوئی حق میں بول پڑا،میاں عامر،عارف نظامی،ضیاء شاہد،فہد حسین،کامران خان،عاصمہ شیرازی،نسیم زہرا،کاشف عباسی کا الگ الگ موقف سامنے آگیا

datetime 28  جنوری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافیوں اور اینکر پرسن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کے زینب قتل کیس میں انکشافات درست ہیں تو ٹھیک لیکن اگر نہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات پر سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز کو معاونت کے لے بلایا تھا۔

چیئرمین پی بی اے میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ یہاں ویڈیوَز سے متعلق گفتگو کرنا غیر مناسب ہے میں بھی ایک بیٹی کا باپ ہوں ایسے لوگوں کو نہیں ہونا چاہیے جو میڈیا پر بیٹھ کر تماشہ کریں۔سینئر صحافی عارف نظامی نے عدالت سے کہا کہ اگر ایجنڈے سے بالاتر ہوکر صحافت نہیں ہورہی تو شرمندہ ہونا چاہیے۔ اگر خبر نہیں رو یہ صحافت کا جنازہ ہے۔خبریں اخبار کے گروپ ایڈیٹر ضیا شاہد کا کہنا تھا آزادانہ جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ قصور سمیت پورنو گرافی کے بیشتر واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ایکسپریس نیوز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نیوز سید فہد حسین نے عدالت سے گزارش کی کہ یہی وقت ہے کہ میڈیا کا رول واضح ہونا چاہیے۔ معاملے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی خوش آئند ہے اس سے تحقیقاتپر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔جیو نیوز کے اینکر پرسن نے عدالت سے استدعا کی کہ تین آپشن کے ساتھ چوتھی آپشن معافی بھی ہونی چاہیے۔ یہ ایک ڈاکٹر شاہد مسعود کا معاملہ نہیں تمام صحافیوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ اس متعلق کوڈ آف کنڈکٹ واضح ہونا چاہیے۔ پیمرا ایسا ادارہ ہے جو حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ سینئر صحافی کامران خان کا کہنا تھا جب چیف جسٹس، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم کیلئے عزتیں محفوظ نہیں تو عام آدمی کی کیسے ہوسکتی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ یہ نفسیاتی دہشتگردی ہے اس کا سد باب ضروری ہے نسیم زہرا کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود سے قانون کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیےعدالت فیصلہ کرتے ہوئے ہم سے نہ پوچھے کاشف عباسی کا کہنا تھا دنیا بھر کے کسی بھی نیوز چینل میں بغیر تصدیق خبر شائع نہیں ہوتی۔ اگر خبر غلط ہو توفوری طور پر جرنلسٹ کو نوکری سے فارغ کردیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تمام میڈیا مالکان اینکر پرسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا آپ سب کا یہاں آنا اور عدالت کی معاونت کرنا بہت اہم ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پروفیسر غنی جاوید


’’اوئے انچارج صاحب اوپر دیکھو‘‘ آواز بھاری…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…