ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عمران کے قاتل ہونے پر یقین نہیں،جب یکے بعد دیگرے واقعات ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ ملزم ۔۔۔! درندگی کا شکار ہونے والی عائشہ کے والدین کے انکشافات

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

قصور (نیوزڈیسک) ملزم عمران کی درندگی کا شکار ہونے والی عائشہ کے والدین نے کہا ہے کہ ہماری بیٹیوں کی لاشوں پر تالیاں بجانے والے حکمران ہمارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ خدا سے دعا ہے کہ جس دکھ سے ہم گزر رہے ہیں حکمران بھی گزریں تاکہ انہیں پتہ چلے بیٹیوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ جانے کا دکھ کتنا بڑا ہوتا ہے ۔ گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مقتولہ بچی عائشہ کی امی اور ابو نے کہا کہ پولیس نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔

ہمیں ابھی تک نہ تو دی این اے رپورٹ کی کاپی دی گئی ہے اور نہ ہی جعلی ملزم پیش کئے اور کہا کہ کسی ایک پر ہاتھ رکھو ابھی ہم اس کو جہنم بھیج دیں گے لیکن ہم نے کسی کے بچے مروا کر بدلہ نہیں لینا انہوں نے کہا کہ عائشہ کے بعد جب یکے بعد دیگرے واقعات ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا تھا کہ ملزم ایک ہی ہے لیکن پولیس داد رسی کو تیار نہیں تھی اور ہم تو اس پر بھی حیران ہیں کہ پہلے ایک سال تک ہماری بیٹی کی ڈی این اے رپورٹ سامنے نہیں آئی اور اب اچانک آگئی ہے عائشہ کے والد نے کہا کہ میں رپورٹ لینے کیلئے تین چار مرتبہ جے آئی ٹی کے پاس گیا لیکن مجھے رپورٹ نہیں دی گئی۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ملزم کے سہولت کار کون ہیں اب ممکن نہیں ہے کہ ملزم اکیلا ہی یہ واردات کرتا ہو۔ ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملزم کو سرعام پھانسی دینے کیلئے خصوصی حکم جاری کیا جائے ہم نے سکولوں سے اپنے بچوں کو لینا ہے اپنے بچوں کی لاشیں نہیں لینے جانا۔ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران کے اصل قاتل ہونے پر یقین نہیں پولیس نے پہلے مدثر نامی شخص کو ہماری بچی کا قاتل بناکرپیش کیاتھا۔ ملزم عمران کی درندگی کا شکار ہونے والی عائشہ کے والدین نے کہا ہے کہ ہماری بیٹیوں کی لاشوں پر تالیاں بجانے والے حکمران ہمارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ خدا سے دعا ہے کہ جس دکھ سے ہم گزر رہے ہیں حکمران بھی گزریں تاکہ انہیں پتہ چلے بیٹیوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ جانے کا دکھ کتنا بڑا ہوتا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…