ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ہر بڑے جرم کے پیچھے شہباز شریف اور رانا ثناء کا ہاتھ ہے، دونوں کو برطرف کرکے پولی گرافک ٹیسٹ کروائے جائیں، ہوشربا انکشاف سامنے آ رہے ہیں

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ہر بڑے جرم کے پیچھے نام نہاد خادم اعلیٰ اور اس کے وزیر قانون کا ہاتھ اور دماغ ہوتا ہے، کوئی بڑا جرم ان کی سرپرستی کے بغیر نہیں ہو سکتا،انہیں برطرف کر کے پولی گرافک ٹیسٹ کروائے جائیں، بڑے بڑے جرم اور مجرم ان کے پیٹوں میں نکلیں گے، وہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے سینئر رہنماؤں کے ایک اجلاس میں گفتگو کررہے تھے،

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ شہباز شریف تحقیقات کا رخ بدلنے کیلئے پریس کانفرنسیں کرتے ہیں، قصور کے واقعات میں بھی انہوں نے اصل سکینڈل سے عوام اور اداروں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی، معصوم زینب کے درندے قاتل کے بارے میں ہوشربا انکشافات سامنے آرہے ہیں کہ وہ تنہا نہیں ایک پورا گینگ کام کررہا ہے، یہ متعدد بار پکڑا بھی گیا اور پھر چھوٹ گیا، اس بااثر اور طاقتور مافیا کا شہباز شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں اشارتاً بھی ذکر نہیں کیا جبکہ غیر جانبدار ذرائع اس کی نشاندہی کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ کو برطرف کر کے سانحہ قصور اور سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جے آئی ٹی بنائی جائے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا، انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس قصور کے غیر انسانی جرائم کے پس پردہ مجرموں اور اصل کہانی جاننا چاہتے ہیں تو شہباز شریف اور ان کی پولیس کو تحقیقات سے الگ کر دیں ورنہ یہ مرکزی مجرموں تک ہاتھ نہیں پہنچنے دیں گے، ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید کہا کہ اشرافیہ کو میری تکلیف اس لیے ہے کہ میں نے ان کے کچے چٹھے، قتل و غارت گری اور لوٹ مار کے متعلق حقائق عوام کے سامنے رکھے اور انہیں عوامی سطح پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کا قاتل ثابت کیا اور انہیں اب یقین ہو چکا ہے کہ قانونی سطح پر بھی پھانسی کے پھندے ان کی گردنوں کے قریب پہن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک ہونے کے بعد شہباز شریف کا ذہنی توازن قائم نہیں رہا، انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے،قاتل اعلیٰ پنجاب ایوان وزیراعظم کی طرف دیکھنے کی بجائے جیل جانے کی تیاری کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…